ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- کَمْ لَبِثْتُمْ: تم کتنی دیر رہے؟
- فِي الْأَرْضِ: زمین پر (یعنی دنیا میں)
- عَدَدَ سِنِينَ: گنتی کے لحاظ سے کتنے سال؟
تفسیر:
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اہلِ جہنم سے سوال فرمائے گا کہ تم نے زمین پر (دنیا میں) کتنے سال گزارے؟ یہ سوال اس لیے ہوگا کہ انہیں احساس دلایا جائے کہ ان کی زندگی کی مدت کتنی مختصر تھی، اور اس کے باوجود انہوں نے اسے اللہ کی اطاعت اور عبادت میں نہیں گزارا۔ یہ ایک ملامت آمیز سوال ہوگا، جس کا مقصد انہیں ان کی کوتاہی اور غفلت کا احساس دلانا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہے ہیں کہ دنیا کی زندگی بہت ہی کم اور محدود ہے، اور آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے۔ جو لوگ اس مختصر سی زندگی میں اللہ کی اطاعت نہیں کرتے، وہ قیامت کے دن پشیمان ہوں گے اور ان سے یہ سوال کیا جائے گا۔
دعوتی پہلو:
ہمیں اس آیت سے سبق لینا چاہیے کہ ہماری زندگی کا وقت بہت قیمتی ہے۔ ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمیں موت کے قریب لے جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت، عبادت اور نیک اعمال میں گزاریں، تاکہ قیامت کے دن ہم اس سوال کا جواب خوشی سے دے سکیں اور ہمارا حساب آسان ہو۔ یاد رکھیں، دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی قلیل ہے، اس لیے اسے غفلت میں ضائع نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم اپنے رب کو پہچانیں اور اس کی عبادت کریں۔ آئیے ہم اپنے وقت کی قدر کریں اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں۔
📜 آیت 110-114 — مؤمنون
ترجمہ — مؤمنون 112
سورہ مؤمنون آیت 112 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے؟سورہ آیت 112/118 — مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مؤمنون سنیں, مؤمنون ترجمہ, مؤمنون mp3, مؤمنون pdf. آیت 110–114. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








