ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
* دَاخِرُونَ: ذلیل، خوار، چھوٹے اور عاجز ہونے والے۔
تفسیر:
اے نبی! جب یہ منکرینِ بعث آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم مرنے کے بعد پھر اٹھائے جائیں گے؟ تو آپ انہیں قطعی اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیں کہ ہاں! ضرور تم اٹھائے جاؤ گے، اور یہ کوئی ناممکن یا مشکل بات نہیں۔ تمہارے خالقِ قادر نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، وہی دوبارہ زندہ کرنے پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم عزت اور کمال کے ساتھ اٹھو گے، بلکہ تم اس دن ذلیل، خوار اور عاجز ہو کر اٹھو گے۔ تمہارا یہ حال اس لیے ہوگا کیونکہ تم نے اللہ کی قدرت کو جھٹلایا اور اس کے رسولوں کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا۔ جس طرح تم نے حق کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا تھا، اسی طرح اس دن تمہیں مجبوراً اور بے بس ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا۔
یاد رکھو! یہ صرف تمہارے ساتھ نہیں ہوگا، بلکہ تمہارے پہلے باپ دادا بھی جو مر چکے ہیں، سب اٹھائے جائیں گے اور سب کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ایمان لانے والوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ موت ختم نہیں ہے، بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کیے، وہ اس دن کامیاب اور سربلند ہوں گے۔ لیکن جو لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں، ان کے لیے اس دن ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ پس عقل مند وہ ہے جو آج اس بات کو مان لے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کرے، تاکہ کل قیامت کے دن اسے ذلت سے نہ گزرنا پڑے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، توبہ کرنے والوں کو قبول فرماتا ہے اور اپنے بندوں کو جنت کی طرف بلاتا ہے۔
📜 آیت 16-20 — صافات
ترجمہ — صافات 18
سورہ صافات آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ ہاں اور تم ذلیل ہوگےسورہ آیت 18/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








