ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَإِنَّهُمْ: پس بیشک وہ (تابعین اور متبوعین، یعنی گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے)
- یَوْمَئِذٍ: اس دن (یعنی قیامت کے دن)
- فِی الْعَذَابِ: عذاب میں
- مُشْتَرِکُونَ: شریک ہونے والے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں بتا رہے ہیں کہ قیامت کے دن گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے سب عذاب میں برابر کے شریک ہوں گے۔ جس طرح انہوں نے دنیا میں مل کر گناہ اور معصیت کی تھی، اسی طرح آخرت میں بھی مل کر عذاب کا مزہ چکھیں گے۔ نہ تو متبوعین (جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا) اپنے تابعین کو بچا سکیں گے، اور نہ تابعین اپنے متبوعین کے کام آ سکیں گے۔ یہ عدلِ الٰہی کا تقاضا ہے کہ جو لوگ کسی برائی میں شریک رہے، وہ اس کی سزا میں بھی شریک ہوں۔
یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ ہم اپنے اعمال کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں۔ اگر ہم کسی کو گمراہ کرنے کا سبب بنیں گے، تو ہم خود بھی اس کے عذاب میں شریک ہوں گے۔ اسی طرح اگر ہم کسی کی نیکی کا سبب بنیں گے، تو ہم اس کے اجر میں بھی شریک ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی نیکی کی طرف رہنمائی کی، اسے اس نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔" (صحیح مسلم)
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سنواریں، اپنے اردگرد کے لوگوں کو نیکی کی دعوت دیں، اور کبھی کسی کو گمراہی کی طرف نہ بلائیں۔ کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہوگا، اور جو لوگ دوسروں کو گمراہ کرنے کا سبب بنے، وہ ان کے عذاب میں شریک ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں گمراہ کرنے والوں میں شامل نہ کرے۔ آمین۔
📜 آیت 31-35 — صافات
ترجمہ — صافات 33
سورہ صافات آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پس وہ اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک…سورہ آیت 33/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








