ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آلِهَتِنَا: ہمارے معبود (بت)
- لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ: ایک شاعر اور دیوانے کی خاطر
تفسیر:
یہ آیت ان مشرکینِ مکہ کے حال کو بیان کر رہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ توحید کا مذاق اڑاتے تھے اور اپنے کفر و شرک پر اصرار کرتے تھے۔ وہ آپس میں کہتے تھے: "کیا ہم اپنے معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں، جن کی ہم نے اپنے آباء و اجداد سے پیروی کرتے ہوئے عبادت کی ہے، صرف ایک شاعر اور مجنون شخص کی بات پر؟" ان کا اشارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا، جنہیں وہ ناحق شاعر اور مجنون کہتے تھے۔
یہ ان کی جہالت اور ہٹ دھرمی کی انتہا تھی کہ وہ حق کو قبول کرنے کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام تراشی کرتے تھے۔ حالانکہ وہ خود جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق و امین ہیں، لیکن اپنی ضد اور دنیاوی مفادات کی خاطر وہ حق سے منہ موڑ رہے تھے۔
اس آیت میں ان کی اس احمقانہ دلیل کا ذکر ہے، جس سے وہ اپنے شرک کو جائز ثابت کرنا چاہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے دین کو کیسے چھوڑ دیں؟ حالانکہ حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے، چاہے وہ کسی بھی زبان میں اور کسی بھی نبی کے ذریعے آئے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق کو قبول کرنے کے لیے کسی کی بڑائی یا معاشرتی حیثیت کو معیار نہیں بنانا چاہیے۔ جو شخص بھی حق لے کر آئے، اسے قبول کرنا چاہیے۔ آج بھی بہت سے لوگ حق کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ اپنی روایات اور آباء و اجداد کے دین سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن ہم سے ہمارے اعمال کا حساب ہوگا، نہ کہ ہمارے آباء و اجداد کی تقلید کا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان مشرکین کے حال سے بچائے جو حق کو دیکھ کر بھی اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 34-38 — صافات
ترجمہ — صافات 36
سورہ صافات آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے…سورہ آیت 36/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








