ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَهَبْنَا: ہم نے عطا کیا۔
- نِعْمَ الْعَبْدُ: کیا ہی اچھا بندہ ہے۔
- أَوَّابٌ: بار بار اللہ کی طرف رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو ایک عظیم نعمت عطا فرمائی، اور وہ تھی ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کی صورت میں اولاد۔ یہ اللہ کا خاص فضل اور احسان تھا کہ اس نے انہیں ایسا بیٹا عطا کیا جو نہ صرف نیک تھا بلکہ علم، حکمت اور بادشاہت میں بھی اپنے والد کا جانشین بنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس عطیے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: "نِعْمَ الْعَبْدُ" یعنی کیا ہی عمدہ بندہ ہے سلیمان! یہ تعریف اس لیے کی گئی کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سب سے نمایاں صفت یہ تھی کہ وہ "أَوَّاب" تھے، یعنی ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے، اپنی غلطیوں پر فوراً توبہ کرنے والے، اور ہر حال میں اللہ کی یاد میں مشغول رہنے والے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اولاد کی صورت میں بھی بڑی نعمتیں عطا فرماتا ہے، اور سب سے بڑی خوبی جو انسان کو اللہ کے نزدیک محبوب بناتی ہے وہ ہے "اوّاب" ہونا، یعنی بار بار اللہ کی طرف پلٹنا، اپنے گناہوں پر ندامت کرنا، اور ہر معاملے میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے کہ دنیاوی اقتدار اور بادشاہت بھی انسان کو اللہ کی عبادت اور اطاعت سے غافل نہیں کرنی چاہیے، بلکہ جتنی بڑی نعمت ملے، اتنا ہی زیادہ شکر اور اللہ کی طرف رجوع بڑھنا چاہیے۔
پیارے مسلمانو! آئیے ہم بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کی اس صفت کو اپنائیں، اپنی زندگیوں میں بار بار اللہ کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کی عطا کردہ ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے اوّاب بندوں سے بہت محبت کرتا ہے اور انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
📜 آیت 28-32 — ص
ترجمہ — ص 30
سورہ ص آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے۔ بہت خوب…سورہ آیت 30/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








