ترجمہ — Tafsir
یہ آیت کریمہ مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ توحید اور آخرت پر ایمان لانے کی بات کو سن کر تعجب اور انکار کا اظہار کرتے تھے۔
معانی الفاظ:
- ہٰؤُلَاءِ: یہ لوگ، اشارہ ہے مشرکین مکہ کی طرف۔
- لَيَقُولُونَ: ضرور کہتے ہیں، تاکید کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کا یہ قول ثابت اور مشہور ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے رسول! یہ مشرکین جو آپ کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں، وہ یقیناً یہ کہتے ہیں کہ "ہماری زندگی صرف یہی ایک موت ہے جو ہم مرتے ہیں، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں، نہ ہی ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔" وہ آخرت، حساب، ثواب اور عذاب پر مکمل طور پر ایمان نہیں رکھتے۔
یہ انکار محض ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی تھا، کیونکہ وہ خود دیکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ پہلی بار انسان کو پیدا کرتا ہے، زمین سے نباتات اگاتا ہے، اور مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ پھر بھی وہ دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن سمجھتے تھے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ جس اللہ نے ہمیں پہلی بار پیدا کیا، کیا وہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ یقیناً وہ قادر ہے۔ موت کا مطلب فنا نہیں، بلکہ ایک مرحلہ ہے جو ہمیں آخرت کی طرف لے جاتا ہے۔ جس طرح نیند موت کی چھوٹی بہن ہے اور ہر روز ہم سو کر اٹھتے ہیں، اسی طرح قیامت کے دن ہم مرنے کے بعد اٹھیں گے۔
آئیے ہم اس حقیقت پر ایمان لائیں اور اپنی زندگی کو اس طرح گزاریں کہ جب ہم اٹھیں تو ہمارا حساب آسان ہو، اور ہم اللہ کی رحمت اور جنت کے حقدار بنیں۔ یاد رکھیں، ایمان بالآخرت ہی وہ چیز ہے جو انسان کو اس دنیا میں نیکی کی طرف راغب کرتی ہے اور برائی سے روکتی ہے۔
📜 آیت 32-36 — دخان
ترجمہ — دخان 34
سورہ دخان آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ لوگ یہ کہتے ہیںسورہ آیت 34/59 — دخان الدخان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: دخان سنیں, دخان ترجمہ, دخان mp3, دخان pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








