تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَأَثَابَهُمُ: تو انہوں نے انہیں بدلہ دیا۔
جَنَّاتٍ: باغات، جنتیں۔
تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ: جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔
خَالِدِينَ فِيهَا: وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ: نیکی کرنے والوں کا بدلہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے ان نیک بندوں کو، جنہوں نے ایمان لانے کا اعلان کیا اور راست باز لوگوں کے ساتھ شامل ہونے کی دعا کی، ان کے اس قول اور سچے اعتقاد کا بہترین بدلہ عطا فرمایا۔ وہ بدلہ کیا تھا؟ وہ جنتیں ہیں جن کے محلات اور درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں، اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نہ کبھی نکالے جائیں گے اور نہ ہی ان سے منتقل ہوں گے۔ یہ ہے ان لوگوں کا اجر جو اپنے قول اور عمل میں احسان کا راستہ اختیار کرتے ہیں، جو حق کو بلا کسی شرط کے قبول کرتے ہیں اور اپنے رب کی رضا کے لیے ہر حال میں نیکی پر قائم رہتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! دیکھیے اللہ رب العزت کی شانِ کرم کہ ایک سچے قول اور پختہ ایمان کا بدلہ کیا ہے؟ وہ ابدی جنتیں ہیں، جہاں نہ کوئی غم ہے، نہ تھکاوٹ، نہ خوف، نہ حزن۔ اللہ تعالیٰ نے آسان راستہ بتا دیا ہے — صرف سچے دل سے ایمان لاؤ، نیک اعمال کرو، اور اللہ سے جنت کی دعا کرو۔ یہ وہی راستہ ہے جو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے دکھایا۔ آئیے ہم بھی اپنے قول کو سچا کریں، اپنے عمل کو نیک بنائیں، اور اللہ سے یہی مانگیں کہ ہمیں بھی ان محسنین میں شامل فرمائے جن کے لیے یہ عظیم انعام تیار کیا گیا ہے۔ اللہ ہمیں جنت کا راستہ دکھائے اور اس پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے
اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔