ترجمہ — Tafsir
﴿أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ﴾
معانی الفاظ:
- أَمْ: یہاں استفہامیہ ہے، یعنی کیا؟ (کیا ان کے پاس...)
- عِندَهُمُ الْغَيْبُ: ان کے پاس غیب کا علم ہے۔
- فَهُمْ يَكْتُبُونَ: تو وہ (اسے) لکھتے ہیں۔
تفسیر:
یہ آیت ان مشرکینِ مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو نبی کریم ﷺ کی دعوتِ توحید کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں بھی غیب کا علم حاصل ہے، یا وہ ایسی باتیں کرتے تھے جیسے انہیں مستقبل کا پتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے استفہامیہ انداز میں فرماتا ہے: کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ لوگوں کے لیے لکھتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں؟ ہرگز نہیں! یہ محض ان کا وہم اور جھوٹ ہے۔
غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، جو آسمانوں اور زمین کا خالق اور مالک ہے۔ وہی جانتا ہے جو پوشیدہ ہے اور جو ظاہر ہے۔ کوئی بشر، کوئی فرشتہ، کوئی نبی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا، سوائے اس کے جو اللہ اپنے پیغمبروں پر وحی کے ذریعے ظاہر کر دے، جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا * إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ﴾ (الجن: 26-27)۔
یہاں اللہ تعالیٰ مشرکین کو چیلنج کر رہا ہے کہ اگر واقعی ان کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ اسے پیش کریں، لیکن یہ ناممکن ہے۔ ان کا یہ دعویٰ محض خود ساختہ اور بے بنیاد ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے علم پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی ان باتوں پر یقین کرنا چاہیے جو غیب کے بارے میں بغیر کسی شرعی دلیل کے کی جائیں۔ آج کل بہت سے لوگ نجومیوں، فال نکالنے والوں، اور خوابوں کے تعبیر بتانے والوں کے پیچھے پڑے ہیں، حالانکہ یہ سب غیب کا دعویٰ ہے جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کریں، اس کی کتاب اور سنت کو اپنا راہنما بنائیں، اور غیب کے معاملات کو اللہ کے سپرد کر دیں۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے اور یہی نجات کا راستہ ہے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلائے اور غیب کے دعووں سے بچائے۔ آمین۔
📜 آیت 39-43 — طور
ترجمہ — طور 41
سورہ طور آیت 41 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ…سورہ آیت 41/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 39–43. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








