واقعہ · 72/96
ترجمہ تلفظ — واقعہ
أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ۝٧٢
A-antum anshaatum shajaratahaaa am nahnul munshi`oon
📖 اردو ترجمہ
کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں؟
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَنشَأْتُمْ: تم نے پیدا کیا، وجود میں لایا۔
  • شَجَرَتَهَا: اس (آگ) کا درخت، یعنی وہ درخت جس سے آگ نکالی جاتی ہے۔
  • الْمُنشِئُونَ: پیدا کرنے والے، وجود میں لانے والے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی قدرت اور رحمت کے کچھ ایسے نمونے پیش فرما رہا ہے جو ان کی روزمرہ زندگی میں ہر وقت سامنے آتے ہیں، تاکہ وہ غور کریں اور اپنے رب کو پہچانیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا تم نے اس آگ کا درخت پیدا کیا ہے جس سے تم آگ روشن کرتے ہو، یا ہم نے اسے پیدا کیا ہے؟

یہ وہ درخت ہے جسے عرب لوگ "مرخ" اور "عفار" کہتے تھے۔ یہ خشک ہونے پر اس قدر آتش گیر ہو جاتا ہے کہ اس کی شاخوں کو آپس میں رگڑنے سے آگ کے شرارے نکلتے ہیں۔ یہ درخت اللہ کی قدرت کا ایک عظیم نشان ہے کہ ایک سبز و تازہ درخت میں آگ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے، اور جب وہ خشک ہو جائے تو اس سے آگ بھڑکتی ہے۔

انسان اس درخت کو نہ تو پیدا کر سکتا ہے، نہ اس میں آگ پیدا کرنے کی خاصیت ڈال سکتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ رب العالمین کا کمال ہے۔ وہی ہے جس نے اس درخت کو پیدا کیا، اس میں آگ کی خاصیت رکھی، اور پھر انسان کو سکھایا کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک عام سی چیز کو یاد دہانی کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب انسان آگ روشن کرتا ہے، کھانا پکاتا ہے، یا سردی کے موسم میں گرمی حاصل کرتا ہے، تو اسے سوچنا چاہیے کہ یہ آگ کس نے پیدا کی؟ کیا اس کا کوئی بندہ اسے پیدا کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! یہ اللہ کی قدرت اور رحمت ہے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے گرد و پیش کی چیزوں پر غور کریں۔ جو چیزیں ہمیں معمولی لگتی ہیں، وہ دراصل اللہ کی بڑی نشانیاں ہیں۔ جب ہم آگ دیکھیں تو اللہ کی قدرت کو یاد کریں، اس کا شکر ادا کریں، اور یہ یقین کریں کہ جو اللہ اتنی آسانی سے آگ پیدا کر سکتا ہے، وہی ہمیں دوبارہ زندہ کر کے جنت یا جہنم میں داخل کرنے پر بھی قادر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے رب کی نعمتوں کو پہچانے اور اس کی عبادت میں مشغول ہو جائے۔ یہ نعمتِ آگ بھی اللہ کی رحمت ہے، جس کے ذریعے ہم اپنی بہت سی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ کیا ہم اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم اسے دیکھ کر اللہ کی عظمت کو یاد کرتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو اللہ نے ہم سے کیا ہے، اور اس کا جواب ہمیں اپنے عمل سے دینا ہے۔

اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر غور کریں اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 70-74 — واقعہ

70لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ
اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟
71أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ
بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو
72أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ
کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں؟
73نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ
ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے
74فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ
تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو
واقعہقرآن فہرست
96آیت
مکیRevelation
72آیت

ترجمہ — واقعہ 72

سورہ واقعہ آیت 72 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے…

سورہ آیت 72/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 70–74. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں