ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حاجِزین: روکنے والے، مانع، حفاظت کرنے والے۔
تفسیرِ آیہ:
یہ آیتِ کریمہ اس انتہائی سخت اور پُرہیبت اندازِ خطاب کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور قرآنِ مجید کی حقانیت کے دفاع میں فرمایا ہے۔ اس سے پہلے کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف کوئی بات منسوب کرتے (جو ہم نے نہ کہی ہو) تو ہم انہیں ضرور پکڑ لیتے، پھر ان کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ اب اس آیت میں فرمایا جا رہا ہے: "پھر تم میں سے کوئی بھی ان سے (یعنی اس عذاب سے) روکنے والا نہ ہوتا۔"
یعنی اے کافرو! اگر ہم اپنے نبی پر کوئی سزا نازل کرتے تو تم میں سے کوئی طاقت، قوت، چالاکی یا وسائل اسے روک نہ سکتا۔ تمہاری ساری جمعیت، تمہارے سارے اتحاد اور تمہارے سارے ہتھیار اس عظیم قدرت کے سامنے بالکل بے بس اور عاجز تھے۔ یہ اللہ کی قدرت کا اعلان ہے کہ وہ جب چاہے اپنے دشمنوں کو تباہ کر دے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں۔
یہ آیت دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور اللہ کی حفاظت کا بھی ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ہر قسم کی آفت اور دشمنوں کے مکر سے محفوظ رکھا، کیونکہ وہ سچے تھے اور انہوں نے جو کچھ پیش کیا وہ وحیِ الٰہی تھی، اپنی طرف سے کوئی بات نہیں گھڑی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے کوئی طاقت نہیں چلتی۔ جب اللہ کسی کو پکڑتا ہے تو کوئی اسے چھڑا نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکام کی پیروی کریں، اس کی نافرمانی سے بچیں، اور قرآنِ کریم کو اپنا راہنما بنائیں۔ قرآن وہ کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لیا ہے، اور یہ ہر اس شخص کے لیے باعثِ نجات ہے جو اسے پکڑ لے۔ آئیے ہم اس عظیم کتاب سے وابستہ ہوں، اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کی برکات سے نوازیں، آمین۔
📜 آیت 45-49 — حاقہ
ترجمہ — حاقہ 47
سورہ حاقہ آیت 47 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس سے روکنے والا…سورہ آیت 47/52 — حاقہ الحاقة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حاقہ سنیں, حاقہ ترجمہ, حاقہ mp3, حاقہ pdf. آیت 45–49. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








