ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ: لوگوں کی آنکھوں پر جادو کیا، یعنی ان کی بصارت کو مسخ کر کے حقیقت کو دھندلا دیا۔
- وَاسْتَرْهَبُوهُمْ: انہیں شدید خوف میں مبتلا کیا، ڈرا دھمکا کر مرعوب کر دیا۔
- سِحْرٍ عَظِيمٍ: بہت بڑا اور زبردست جادو، جو اپنے فن اور اثر میں نہایت مضبوط تھا۔
تفسیر:
جب موسیٰ علیہ السلام نے ساحروں کو للکارا اور انہیں پہلے اپنا جادو دکھانے کا کہا تو انہوں نے اپنی رسیاں اور عصیاں پھینک دیں۔ انہوں نے اپنے فنِ جادو سے لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کر دیا، یعنی ان کی بصارت کو اس طرح دھوکہ دیا کہ رسیاں اور عصیاں سانپوں کی شکل میں نظر آنے لگیں۔ یہ محض ایک ظاہری فریب اور خیال تھا، حقیقت میں کچھ نہیں تھا، لیکن انہوں نے لوگوں کو اس قدر مرعوب اور خوفزدہ کیا کہ ان کے دل دہل گئے۔ انہوں نے ایک بہت بڑا اور حیرت انگیز جادو پیش کیا جو اپنے فن میں نہایت مضبوط اور مؤثر تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ باطل کی طاقت چاہے کتنی ہی بڑی اور دھوکہ دینے والی کیوں نہ ہو، وہ حق کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتی۔ ساحروں نے اپنے جادو سے لوگوں کو حیران کر دیا، لیکن جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو اس نے ان کے تمام جادو کو نگل لیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے، چاہے باطل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی مدد پر یقین رکھیں، کیونکہ اللہ اپنے نیک بندوں کی ہمیشہ مدد کرتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دھوکہ اور فریب دنیا میں عارضی ہیں، لیکن سچائی اور حقانیت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
📜 آیت 114-118 — اعراف
ترجمہ — اعراف 116
سورہ اعراف آیت 116 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو…سورہ آیت 116/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 114–118. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








