ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- إِمَّا: یا، اختیار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
- تُلْقِيَ: تم ڈالو (یعنی اپنی لاٹھی پھینکو)۔
- الْمُلْقِينَ: ڈالنے والے (یعنی اپنے آلات و رسّیاں پھینکنے والے)۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ساحرینِ فرعون کا مقابلہ طے پایا اور سب لوگ میدانِ مقابلہ میں جمع ہو گئے، تو ساحروں نے بڑے غرور اور تکبّر کے ساتھ، اپنی طاقتِ سحر پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا: "اے موسیٰ! تمہاری مرضی، یا تو تم پہلے اپنی لاٹھی ڈالو، یا ہم پہلے اپنے آلات (رسیاں اور عصا) ڈالیں۔" انہوں نے یہ بات اس لیے کہی کہ وہ اپنی فتح پر یقین رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ان کا سحر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو شکست دے دے گا۔ ان کا یہ انداز دراصل اپنی برتری ظاہر کرنے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش تھی، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ کا معجزہ کسی انسانی طاقت سے مغلوب نہیں ہو سکتا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے بندے کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور اور پراعتماد کیوں نہ ہوں۔ ساحروں کا غرور اور شیخی آخرکار خاک میں مل گیا، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ ایک عظیم سانپ بن گئی اور ان کے تمام جھوٹے سحر کو نگل گئی۔ یہ سبق آج بھی ہمارے لیے ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں فتح ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتی ہے، چاہے باطل کے علمبردار کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد ضرور فرماتا ہے، جیسا کہ اس آیت کے بعد والے واقعات میں ساحروں نے خود ایمان لا کر سجدے میں گر جانا، جو اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ حق کی صداقت دل کو مسخر کر لیتی ہے۔
📜 آیت 113-117 — اعراف
ترجمہ — اعراف 115
سورہ آیت 115/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 113–117. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








