ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَاكِهَةً: پھل، میوے، ہر وہ پھل جو انسان کھاتا ہے۔
- أَبًّا: چارہ، گھاس، وہ سبزہ اور نباتات جو جانوروں کی خوراک کے لیے اگتا ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی عظیم قدرت اور نعمتوں کا ذکر فرما رہے ہیں۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ اس کی خوراک کیسے تیار ہوتی ہے۔ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، زمین کو پھاڑ کر اس میں سے مختلف قسم کی نباتات اگائیں۔ انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت فاکہہ یعنی طرح طرح کے پھل اور میوے ہیں، جو انسانوں کے لیے لذت اور صحت کا باعث ہیں۔ اور اب یعنی چارہ اور گھاس، جو جانوروں کے لیے ہے، تاکہ وہ بھی اپنی خوراک حاصل کریں اور انسان ان سے دودھ، گوشت اور دیگر فوائد حاصل کرے۔
یہ اللہ کی رحمت کا کمال ہے کہ اس نے زمین سے ایسی چیزیں پیدا کیں جو انسان اور جانور دونوں کی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ پھل انسان کی غذا اور لذت ہیں، جبکہ چارہ جانوروں کی غذا ہے، اور اس طرح انسان اور جانور دونوں اللہ کی نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، جب آپ میٹھے پھل کھاتے ہیں یا اپنے جانوروں کو چراگاہ میں چرتے دیکھتے ہیں، تو کیا یہ اللہ کی محبت اور رحمت کا ثبوت نہیں؟ اللہ نے ہمارے لیے یہ سب کچھ مفت میں پیدا کیا ہے۔ کیا ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنی زندگی اللہ کے حکموں کے مطابق گزار کر اس کا شکر ادا کرتے ہیں؟ یہ نعمتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اللہ ہم سے کتنا پیار کرتا ہے، اور ہمیں بھی اپنے خالق سے محبت کرنی چاہیے اور اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں، اس کے احکام پر عمل کریں اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔
📜 آیت 29-33 — عبس
ترجمہ — عبس 31
سورہ عبس آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور میوے اور چاراسورہ آیت 31/42 — عبس عبس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عبس سنیں, عبس ترجمہ, عبس mp3, عبس pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








