اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے وہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَا يَحْزُنكَ: آپ کو غمگین نہ کرے۔
قَوْلُهُمْ: ان (مشرکین) کی باتیں، طعن و تشنیع۔
الْعِزَّةَ: عزت، طاقت، غلبہ اور کامل قدرت۔
السَّمِيعُ: سب کچھ سننے والا۔
الْعَلِيمُ: سب کچھ جاننے والا۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! مشرکین کی وہ باتیں جو وہ آپ کے دین، آپ کی دعوت اور آپ کے رب کے بارے میں کہتے ہیں، آپ کو غمگین نہ کریں۔ وہ اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہیں، اس کے ساتھ بتوں اور معبودوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، اور آپ کے بارے میں جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔ لیکن آپ پریشان نہ ہوں، کیونکہ عزت، طاقت اور غلبہ مکمل طور پر صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہی ذلیل کرتا ہے اور وہی عزت دیتا ہے۔ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں، نہ کوئی اسے عاجز کر سکتا ہے۔ وہ ان کی تمام باتوں کو سن رہا ہے اور ان کے تمام اعمال اور نیتوں سے خوب واقف ہے۔ وہ انہیں ان کے افعال کا بدلہ دے گا، اور اپنے نبی کی مدد و نصرت فرمائے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنین کے لیے ایک عظیم تسلی اور اطمینان کا پیغام ہے۔ جب بھی کوئی مسلمان کافروں یا منافقوں کی طعن و تشنیع سے دل گرفتہ ہو، تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اصل عزت اور قدرت اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی بشر کے پاس نہیں۔ اللہ اپنے بندوں کی سنتا ہے، ان کی حالت جانتا ہے، اور وہ ہر ظالم کو اس کی سزا دے گا۔ لہٰذا مومن کو چاہیے کہ وہ صبر اور توکل کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ رکھے، اور یقین رکھے کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو دل کو سکون بخشتا ہے اور ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
سن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب خدا کے (بندے اور اس کے مملوک) ہیں۔ اور یہ جو خدا کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو پکارتے ہیں۔ وہ (کسی اور چیز کے) پیچھے نہیں چلتے۔ صرف ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہٴ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لیے ان میں نشانیاں ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔