اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
کَیْل: ناپنا، پیمانہ، غلہ جو ناپ کر دیا جائے۔
تَقْرَبُونِ: میرے قریب آنا، میری بارگاہ میں حاضر ہونا۔
تفسیرِ آیہ:
حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا کہ اگر تم اپنے اس بھائی (بنیامین) کو میرے پاس نہ لائے جو تمہارے والد کے پاس ہے اور جس کا ذکر تم نے کیا ہے، تو پھر میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں جو میں تمہیں ناپ کر دوں، اور نہ ہی تم میرے قریب آ سکو گے۔ یعنی یوسف علیہ السلام نے انہیں سختی سے خبردار کیا کہ اس شرط کے بغیر انہیں نہ تو اناج ملے گا اور نہ ہی وہ مصر میں داخل ہو سکیں گے۔
یہ دراصل ایک حکمت عملی تھی تاکہ وہ اپنے والد کے پاس جا کر بنیامین کو لائیں، اور یوں یوسف علیہ السلام اپنے حقیقی بھائی سے مل سکیں۔ اس میں یہ بھی پیغام ہے کہ وعدہ اور شرط کی پابندی کرنا ضروری ہے، اور جو شخص اپنے وعدے پر قائم نہ رہے، اسے اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے قول و فعل میں سچا اور پکا ہو۔ جس طرح یوسف علیہ السلام نے اپنی بات کو مضبوطی سے رکھا اور شرط کو واضح کیا، اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں صاف گو اور پابند عہد ہوں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ سچائی اور وفائے عہد سے ہی معاشرے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے، اور یہی وہ خوبیاں ہیں جو ایک مسلمان کو دنیا اور آخرت میں کامیاب بناتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وعدوں پر قائم رہنے اور اپنے قول و فعل میں سچائی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔