ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَاسْتَفْتَحُواْ: انبیاء نے فتح و نصرت طلب کی۔
- خَابَ: نامراد ہوا، ناکام و محروم رہا۔
- جَبَّارٍ: سرکش، ظالم، جو لوگوں کو اپنی مرضی پر مجبور کرے۔
- عَنِيدٍ: ضدّی، حق کا انکار کرنے والا، جو حق ظاہر ہونے کے باوجود اسے قبول نہ کرے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کی کیفیت بیان فرمائی ہے کہ جب ان کی قومیں حق کو ماننے سے انکار کرتی تھیں اور انہیں ستاتی تھیں، تو انبیاء اپنے رب کے حضور گڑگڑاتے ہوئے فتح و نصرت کی دعا مانگتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں اپنی کمزوری اور اللہ کی قدرت کا سہارا لیتے تھے، اور اللہ سے فیصلہ طلب کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور انہیں فتح و کامرانی عطا کی۔
اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ہر وہ شخص جو سرکشی اور تکبر کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتا، جو لوگوں کو اپنی مرضی پر چلانے کی کوشش کرتا ہے، اور جو حق کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے، وہ آخرت میں اور دنیا میں بھی ناکام و نامراد ہوگا۔ اس کی ساری کوششیں اور تدبیریں خاک میں مل جائیں گی، اور وہ اپنے انجام سے بچ نہیں سکے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ جب بندہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنی پوری انکساری کے ساتھ اس سے مدد مانگتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے کبھی مایوس نہیں کرتا۔ چاہے دشمن کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، اللہ کی نصرت مومن کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور جو لوگ حق کے سامنے گردن نہیں جھکاتے، وہ آخرت میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں حق کو قبول کریں، تکبر سے بچیں، اور ہر معاملے میں اللہ سے مدد طلب کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد فرماتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 13-17 — ابراہیم
ترجمہ — ابراہیم 15
سورہ ابراہیم آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو ہر…سورہ آیت 15/52 — ابراہیم إبراهيم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ابراہیم سنیں, ابراہیم ترجمہ, ابراہیم mp3, ابراہیم pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








