ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَبَشَّرْتُمُونِي: کیا تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟
- مَسَّنِيَ الْكِبَرُ: مجھے بڑھاپے نے چھو لیا ہے، یعنی میری عمر بہت زیادہ ہو چکی ہے۔
- فَبِمَ تُبَشِّرُونَ: تو پھر کس چیز (یا کس اعتبار) سے مجھے خوشخبری دیتے ہو؟
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر بہت زیادہ ہو چکی تھی، اور ان کی اہلیہ بھی بوڑھی ہو چکی تھیں۔ اس حالت میں جب فرشتوں نے انہیں بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری دی، تو وہ حیرت اور تعجب سے بولے: "کیا تم مجھے اس حال میں خوشخبری دیتے ہو کہ مجھ پر بڑھاپا آ چکا ہے؟ پھر تم کس بنیاد پر مجھے یہ خوشخبری دے رہے ہو؟" یعنی یہ بات عقل اور فطرت کے خلاف ہے کہ اتنی بڑی عمر میں اولاد ہو، اس لیے وہ تعجب سے یہ سوال کر رہے تھے۔
یہ تعجب انکار یا اللہ کی قدرت پر شک کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ وہ اللہ کے حکم اور قدرت کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوئے تھے، لیکن انسانی فطرت کے اعتبار سے یہ بات حیران کن تھی۔ فرشتوں نے جواب دیا کہ یہ اللہ کا حکم ہے، اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے، اور وہ اپنے بندوں کو ایسے حالات میں بھی خوشخبری دیتا ہے جو عقل اور فطرت کے مطابق ناممکن نظر آتے ہیں۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال کیا، تو فرشتوں نے فوراً واضح کیا کہ یہ اللہ کا حکم ہے، اور اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں اللہ کی قدرت پر مکمل یقین رکھنا چاہیے، چاہے حالات کتنے بھی مشکل یا ناممکن کیوں نہ ہوں۔ اللہ جب چاہتا ہے، اپنے بندوں کو ایسی نعمتیں عطا کرتا ہے جن کی توقع نہیں ہوتی۔ یہ ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے کہ ہم اللہ کی رحمت اور قدرت سے کبھی مایوس نہ ہوں، اور ہمیشہ اس کی خوشخبریوں کا انتظار کریں۔
📜 آیت 52-56 — حجر
ترجمہ — حجر 54
سورہ حجر آیت 54 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم…سورہ آیت 54/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 52–56. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








