ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أهل المدينة: اس سے مراد شہرِ سدوم کے رہنے والے، یعنی قومِ لوط علیہ السلام۔
- يستبشرون: خوش ہو رہے تھے، بشارت پا رہے تھے، ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے تھے۔
تفسیرِ آیہ:
جب حضرت لوط علیہ السلام کے پاس فرشتے مہمان کی صورت میں تشریف لائے، جو دراصل اللہ کے بھیجے ہوئے تھے تاکہ اس بےحیا قوم پر عذاب نازل کریں، تو شہرِ سدوم کے لوگوں کو یہ خبر ملی کہ لوط علیہ السلام کے پاس خوبصورت مہمان آئے ہیں۔ وہ فوراً اپنے گھروں سے نکل پڑے اور بڑی خوشی اور شادمانی کے ساتھ لوط علیہ السلام کے گھر کی طرف دوڑے آئے۔ ان کے دلوں میں کوئی نیک ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ اپنی خبیث خواہشات کی تکمیل کے لیے بےچین تھے۔ وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے تھے کہ آج لوط کے پاس خوبصورت نوجوان مہمان آئے ہیں، چلو وہاں چلتے ہیں۔ ان کی یہ خوشی دراصل ان کی بداعمالی اور گناہ پر تھی، نہ کہ کسی نیکی پر۔
یہ وہی قوم تھی جس نے اپنے نبی کی نصیحت کو ٹھکرا دیا تھا اور اپنی بےحیائی اور شہوت پرستی میں حد سے تجاوز کر گئی تھی۔ ان کی یہ خوشی اور استبشار دراصل ان کے انجامِ بد کا پیش خیمہ ثابت ہوا، کیونکہ اسی خوشی کے بعد اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ گناہ پر خوش ہونا اور اسے معمول بنا لینا کسی قوم یا فرد کے لیے تباہی کا باعث بنتا ہے۔ جو لوگ گناہوں کو معمول بنا لیتے ہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں، وہ اللہ کے عذاب سے اس وقت تک محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک وہ توبہ نہ کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نیکیوں پر خوش ہوں، گناہوں سے نفرت کریں، اور اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو پاک کریں، اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا پر قربان کریں، اور اپنے نبی ﷺ کی سنت پر چل کر دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی حاصل کریں۔
📜 آیت 65-69 — حجر
ترجمہ — حجر 67
سورہ حجر آیت 67 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئےسورہ آیت 67/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 65–69. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








