ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ضَيْفِي: میرے مہمان
- تَفْضَحُونِ: مجھے رسوا نہ کرو، میری بے عزتی نہ کرو
تفسیر:
حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کے شریر لوگوں سے کہا جو برے ارادوں کے ساتھ ان کے پاس آئے تھے: "یہ لوگ میرے مہمان ہیں۔" انہوں نے اپنے مہمانوں کو اپنی پناہ میں لیتے ہوئے قوم کو سختی سے منع کیا کہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں، کیونکہ مہمان کی عزت کرنا اور اس کی حفاظت کرنا ہر صاحب ایمان کا فرض ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ اگر تم نے میرے مہمانوں کو ایذا پہنچائی تو یہ میرے لیے بہت بڑی رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا، کیونکہ مہمان کی بے عزتی کرنا میزبان کی بے عزتی ہے۔
یہاں سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ مہمان نوازی اسلام کا شایانِ شان حسنِ اخلاق ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔" (بخاری و مسلم)
حضرت لوط علیہ السلام کا یہ اندازِ خطاب ان کی شفقت، مہمان نوازی اور اپنی قوم کو سمجھانے کی حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ قوم اپنے برے ارادوں سے باز آجائے اور اللہ کے عذاب سے بچ جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کو ان کے ناپاک اعمال کی وجہ سے ہلاک کرنے کا فیصلہ فرما چکا تھا۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے مہمانوں کی عزت کرنی چاہیے، ان کی حفاظت کرنی چاہیے، اور کسی بھی حال میں انہیں تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے۔ مہمان نوازی ایمان کی علامت ہے اور اس کے ذریعے ہم اللہ کی رحمت اور برکتوں کو اپنے گھروں میں دعوت دیتے ہیں۔ آئیے ہم اپنے پیارے نبی ﷺ اور انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت سے مہمان نوازی کا درس لیں اور اپنے معاشرے میں اس خوبصورت عمل کو فروغ دیں۔
📜 آیت 66-70 — حجر
ترجمہ — حجر 68
سورہ حجر آیت 68 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان…سورہ آیت 68/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 66–70. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








