مریم · 35/98
ترجمہ تلفظ — مریم
مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ ۖ سُبْحَانَهُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ۝٣٥
Maa kaana lillaahi ai yattakhiza minw waladin Subhaanah; izaa qadaaa amran fa innamaa yaqoolu lahoo kun fa yakoon
📖 اردو ترجمہ
خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مَا كَانَ لِلَّهِ: اللہ کے لیے زیبا نہیں، لائق نہیں۔
  • یَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ: کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔
  • سُبْحَانَهُ: وہ پاک ہے، ہر عیب اور نقص سے منزّہ ہے۔
  • قَضَىٰ أَمْرًا: کسی کام کا فیصلہ فرمائے، اسے ارادہ کر لے۔
  • کُن فَیَکُونُ: ہو جا، تو وہ فوراً ہو جاتا ہے۔

تفسیر:

اللہ رب العزت کی ذات اس سے پاک اور بلند ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ یہ بات اس کی شانِ الوہیت کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ اولاد کا تصور احتیاج، مشابہت اور جسمانی تعلق سے جڑا ہوا ہے، اور اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے منزّہ ہے۔ وہ بے نیاز ہے، اس کا کوئی ہمسر نہیں، نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی جاہل اس کی طرف اولاد منسوب کرتا ہے تو اللہ اپنی پاکی بیان فرماتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ کا ذکر فرماتا ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کر لیتا ہے، چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی، تو اس کے لیے صرف یہی حکم دینا کافی ہوتا ہے کہ "ہو جا" اور وہ چیز فوراً وجود میں آ جاتی ہے۔ اس میں کوئی تاخیر نہیں، کوئی رکاوٹ نہیں، کوئی سبب درکار نہیں۔ یہ قدرتِ الٰہی کا کمال ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس کے ایک اشارے پر قائم ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا بھی اسی قدرتِ الٰہی کا مظہر ہے۔ جس اللہ کے لیے "کن" کہنا اور وہ چیز موجود ہو جانا معمول ہے، اس کے لیے کسی کو باپ کے بغیر پیدا کرنا کونسی مشکل بات ہے؟ لیکن افسوس کہ اہلِ کتاب نے اس معجزے کو غلط سمجھ کر عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا، حالانکہ وہ تو اللہ کے برگزیدہ نبی اور اس کے بندے تھے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اللہ کی ذات کو اس کی شان کے مطابق پہچانیں۔ وہ ایسا خدا ہے جس کی قدرت کی کوئی حد نہیں، وہ جب چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور جب فیصلہ کر لیتا ہے تو اسے پورا کر کے ہی رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں اسی اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی ہر مشکل کو حل کرنے پر قادر ہے۔ جب ہم دعا کرتے ہیں تو وہ سنتا ہے، جب ہم اس سے مدد مانگتے ہیں تو وہ مدد فرماتا ہے۔ اس کی قدرت کے آگے ہر سبب بے معنی ہے، وہ براہِ راست اپنے بندے کی مدد کر سکتا ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو اس یقین سے بھریں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اپنے معاملات میں اسی کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہی واحد ذات ہے جو "کن" کے حکم سے کائنات کو بدل دینے کی طاقت رکھتی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 33-37 — مریم

33وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا
اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے
34ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ
یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں (اور یہ) سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں
35مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ ۖ سُبْحَانَهُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
36وَإِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
اور بےشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے
37فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِن مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ
پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے
مریمقرآن فہرست
98آیت
مکیRevelation
35آیت

ترجمہ — مریم 35

سورہ مریم آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ…

سورہ آیت 35/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں