ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قَوْمَ فِرْعَوْنَ: فرعون کی قوم، یعنی مصر کے وہ لوگ جو فرعون کی اطاعت کرتے تھے اور اس کے کفر و ظلم کے پیرو تھے۔
- أَلَا يَتَّقُونَ: کیا وہ اللہ سے نہیں ڈرتے؟ یعنی کیا وہ اللہ کے عذاب سے خوف نہیں کھاتے اور اس کے حکموں کی تعمیل نہیں کرتے؟
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما رہے ہیں کہ جب انہیں حکم دیا گیا کہ وہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں۔ فرعون ایک سرکش اور ظالم بادشاہ تھا جو اللہ کی وحدانیت کا انکار کرتا تھا اور اپنے آپ کو خدا کہتا تھا۔ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اس قوم کو نرمی اور محبت کے ساتھ دعوت دیں، اور ان سے کہیں: "کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟" یعنی کیا تمہیں اللہ کے عذاب کا خوف نہیں؟ کیا تم اپنے کفر اور ظلم سے باز نہیں آؤ گے؟ یہ سوال دراصل انہیں جھنجھوڑنے اور ان کی غفلت دور کرنے کے لیے تھا، تاکہ وہ اپنے انجام پر غور کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دعوتِ دین کا انداز نرمی اور حکمت پر مبنی ہونا چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون جیسے ظالم کے پاس بھی نرمی سے جانے کا حکم دیا گیا، تاکہ وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کی وسعت کو سمجھیں۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں لوگوں کو اللہ کا خوف دلانا چاہیے، انہیں یاد دلانا چاہیے کہ اللہ ہر چیز کا نگران ہے اور ایک دن ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی ہے اور اسے اللہ کی رضا کی راہ پر چلاتی ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں تقویٰ کو اپنائیں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں، کیونکہ یہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔
📜 آیت 9-13 — شعراء
ترجمہ — شعراء 11
سورہ شعراء آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) قوم فرعون کے پاس، کیا یہ ڈرتے نہیںسورہ آیت 11/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








