شعراء · 137/227
ترجمہ تلفظ — شعراء
إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ ۝١٣٧
In haazaaa illaa khuluqul awwaleen
📖 اردو ترجمہ
یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خُلُقُ: عادت، روش، طریقہ، دین اور اخلاق۔
  • الْأَوَّلِينَ: پہلے لوگ، گذشتہ امتیں۔

تفسیر آیت:

یہ آیت ان ظالموں اور کافروں کا قول بیان کر رہی ہے جنہوں نے اللہ کے نبی حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا۔ جب نبی ہود علیہ السلام نے انہیں اللہ کا عذاب اور اس کے عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے طنز اور استہزاء کے انداز میں کہا: "یہ بات جو تم کہہ رہے ہو کہ ہم پر عذاب آئے گا، یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ پہلے لوگوں کی عادت اور ان کا طریقہ ہے۔" ان کا مطلب یہ تھا کہ پہلے بھی لوگ ایسی باتیں کہتے رہے ہیں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی عذاب میں مبتلا نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں، یہ ہمارے آباء و اجداد کا دین اور ان کی روش ہے، اور ہم اس پر قائم رہیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا، کیونکہ یہ تو زمانے کا معمول ہے کہ کبھی لوگ خوشحال ہوتے ہیں اور کبھی تنگ دست، یہ سب کچھ وقت کے اتار چڑھاؤ کی باتیں ہیں، نہ کہ اللہ کی طرف سے آزمائش یا عذاب۔

یہاں سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ جب انسان اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو دین بنا لیتا ہے اور حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے، تو وہ ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنے جاہلانہ تعصب کی وجہ سے سچائی کو نہیں دیکھ پا رہے تھے اور انہوں نے نبی کی بات کو محض ایک پرانی روایت قرار دے کر رد کر دیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں کبھی بھی اپنے معاشرے کے غلط رسوم و رواج کو دین نہیں بنانا چاہیے۔ حق وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے، چاہے وہ ہمارے آباء و اجداد کی روش کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہر بات کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھیں اور جو بھی حق ہو اسے قبول کریں، خواہ وہ ہمیں اپنے معاشرے کے عام طریقوں سے ہٹ کر کیوں نہ لے جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے آباء و اجداد کی کورانہ تقلید سے بچائے۔ آمین۔



📜 آیت 135-139 — شعراء

135إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے
136قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ الْوَاعِظِينَ
وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے
137إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ
یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں
138وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا
139فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
شعراءقرآن فہرست
227آیت
مکیRevelation
137آیت

ترجمہ — شعراء 137

سورہ شعراء آیت 137 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

سورہ آیت 137/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 135–139. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں