ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أجر: بدلہ، معاوضہ، اجرت۔
- رب العالمین: تمام جہانوں کا پروردگار، تمام مخلوقات کا مالک اور پالنے والا۔
تفسیر آیت:
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوتِ توحید دی اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ واضح فرما دیا کہ میں تم سے اس دعوت و تبلیغ کے بدلے کوئی اجرت یا معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میری دعوت خالص اللہ کے لیے ہے، اور میرا اجر و ثواب صرف اللہ رب العالمین کے پاس ہے، جو تمام جہانوں کا مالک اور پالنے والا ہے۔
یہ بات تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی مشترکہ سنت رہی ہے۔ انہوں نے کبھی اپنی دعوت کو ذریعہ معاش نہیں بنایا، نہ ہی لوگوں سے کوئی دنیاوی فائدہ حاصل کیا۔ ان کی دعوت خالصۃً للہ تھی، اور ان کی نگاہ صرف اللہ کے فضل و کرم پر تھی۔
یہ آیت ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ دین کی خدمت اور دعوتِ حق کا کام خالص نیت سے کیا جائے، بغیر کسی دنیاوی غرض یا طمع کے۔ جو شخص اللہ کے لیے کام کرتا ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کا اجر دینے والا ہے، اور اللہ کا دیا ہوا اجر کسی بھی دنیاوی معاوضے سے کہیں بڑھ کر ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ بھی پیغام ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرنا چاہیے۔ جب ہم کسی نیک کام کریں، تو اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونی چاہیے، نہ کہ لوگوں کی تعریف یا کوئی دنیاوی فائدہ۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔
یہ دعوتِ انبیاء کا وہ ابدی اصول ہے جو ہر زمانے میں قائم رہا، اور یہی اخلاص اور للہیت کی روح ہے جو ہمیں اللہ کا محبوب بنا سکتی ہے۔
📜 آیت 178-182 — شعراء
ترجمہ — شعراء 180
سورہ شعراء آیت 180 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور میں اس کام کا تم سے کچھ بدلہ نہیں…سورہ آیت 180/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 178–182. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








