ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَفَّاكٍ: بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا، کذاب۔
- أَثِيمٍ: بہت زیادہ گناہ کرنے والا، بدکار۔
تفسیر آیت:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شیاطین کے نزول کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ کن لوگوں پر اترتے ہیں۔ شیاطین کسی نیک اور صالح انسان پر نہیں اترتے، بلکہ ان کا نزول ہر اس شخص پر ہوتا ہے جو بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا اور گناہوں میں ڈوبا ہوا ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کاہنوں اور نجومیوں کی طرح دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ غیب کی خبریں جانتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ محض دھوکہ باز ہوتے ہیں۔
شیاطین آسمان کی طرف کان لگا کر باتیں چراتے ہیں اور ان کاہنوں تک پہنچاتے ہیں، لیکن یہ خبریں انتہائی معمولی اور ملی جلی ہوتی ہیں۔ کاہن اس میں اپنی طرف سے سینکڑوں جھوٹ ملا دیتے ہیں، چنانچہ ان کی اکثر باتیں جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں۔
یہ آیت ہمیں ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ جھوٹ اور گناہ انسان کو شیطان کا دوست بنا دیتے ہیں، اور اس کے برعکس سچائی اور تقویٰ انسان کو فرشتوں اور اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جھوٹ اور گناہ شیطان کے دروازے کھولتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں برکتیں نازل ہوں اور ہم شیطان کے حملوں سے محفوظ رہیں، تو ہمیں سچائی اور نیکی کو اپنانا ہوگا۔ قرآن کریم اور سنتِ نبوی ﷺ ہی ہماری حقیقی رہنمائی ہیں، انہیں پکڑیں اور جھوٹے دعووں اور باطل چیزوں سے دور رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی اور نیکی پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 220-224 — شعراء
ترجمہ — شعراء 222
سورہ شعراء آیت 222 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہر جھوٹے گنہگار پر اُترتے ہیںسورہ آیت 222/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 220–224. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








