جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹے افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
افترى: جھوٹ گھڑنا، بہتان باندھنا
الظالمون: ظلم کرنے والے، حق کو چھوڑ کر باطل پر چلنے والے
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے جو حجت واضح ہونے کے بعد بھی اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ یعنی جب تورات پڑھ لی گئی اور حقیقت واضح ہو گئی کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کچھ چیزیں حرام کر لی تھیں، یہ اللہ کی طرف سے نہیں تھا، تو اس کے باوجود جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے، وہی حقیقی ظالم ہیں۔
یہ ظلم کی انتہا ہے کہ انسان کو سچائی دکھا دی جائے، دلیل قائم کر دی جائے، پھر بھی وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولے اور اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرے۔ ایسے لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں کیونکہ وہ حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی کے سامنے آنے کے بعد ضد اور ہٹ دھرمی نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے اور قرآن جیسا روشن راستہ دیا ہے۔ جب حقیقت واضح ہو جائے تو اسے قبول کرنا ہی ایمان کا تقاضا ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر حق کو چھپاتا ہے یا اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے، وہ خود اپنے نقصان کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی کو قبول کرنے اور جھوٹ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)
سورہ آل عمران آیت 94 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹے افترا کریں…
سورہ آیت 94/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 92–96. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔