آل عمران · 95/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
قُلْ صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۝٩٥
Qul sadaqal laah; fattabi`oo Millata Ibraaheema Haneefanw wa maa kaana minal mush rikeen
📖 اردو ترجمہ
کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا دیا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • صَدَقَ اللہُ: اللہ نے سچ فرمایا۔
  • مِلَّةَ إِبْرَاهِیمَ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین اور طریقہ۔
  • حَنِیفًا: تمام باطل ادیان سے ہٹ کر صرف اللہ کی طرف یکسو ہو کر، توحید پر قائم رہنے والا۔
  • مُشْرِکِینَ: وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

تفسیر:

اے نبی! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو آپ سے جھگڑا کر رہے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف اپنی نسبت کا دعویٰ کرتے ہیں: اللہ نے سچ فرمایا ہے، اس کی ہر خبر سچی ہے اور اس کا ہر حکم برحق ہے۔ اللہ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ بتایا، وہ سب سچ ہے، اور جو کچھ اس نے نازل کیا اور شرع کیا، وہ بھی حق ہے۔

پھر اگر تم واقعی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے محبت رکھتے ہو اور ان کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، تو ان کی ملت کی پیروی کرو، جو آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہے۔ یہی وہ ملت ہے جو اللہ نے پسند کی ہے، اور یہی دینِ اسلام ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام تمام باطل ادیان سے کنارہ کش ہو کر صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوئے، انہوں نے کبھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنایا، نہ بتوں کی عبادت کی اور نہ کسی مخلوق کو اللہ کا ہمسر قرار دیا۔

یاد رکھو! حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت دراصل توحید اور اخلاص کی تعلیم دیتی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو آج بھی نجات کا ضامن ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہر قسم کے شرک سے کنارہ کشی اختیار کی، اسی طرح آج بھی ہمیں چاہیے کہ ہر قسم کے شرک سے بچیں، چاہے وہ ظاہری ہو یا چھپا ہوا۔ اپنے اعمال، عبادات، محبت اور اطاعت میں صرف اللہ کو یکتا مانیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی محبت کا سچا دعویٰ دار بناتا ہے، اور یہی وہ دین ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔ آئیے! ہم سب اس سچے دین کو اپنائیں اور اپنی زندگیوں کو توحید کی روشنی سے منور کریں، تاکہ ہم بھی ان برگزیدہ انبیاء کے طریقے پر چل سکیں اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے حقدار بن سکیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 93-97 — آل عمران

93۞ كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ ۗ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)
94فَمَنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹے افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں
95قُلْ صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا دیا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے
96إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ
پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکے میں ہے بابرکت اور جہاں کے لیے موجبِ ہدایت
97فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پا لیا اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
95آیت

ترجمہ — آل عمران 95

سورہ آل عمران آیت 95 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا دیا پس دین…

سورہ آیت 95/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 93–97. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں