ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْأَوَّلِينَ: پہلے گزرے ہوئے لوگ، یعنی اگلی امتیں اور پہلے زمانے کے انسان۔
- الْآخِرِينَ: بعد میں آنے والے لوگ، یعنی آخری زمانے کے انسان اور قیامت تک پیدا ہونے والے۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! آپ اِن منکرینِ بعث سے فرما دیجیے کہ پہلے گزرے ہوئے لوگ اور بعد میں آنے والے لوگ، غرض یہ کہ تمام انسان جو شروعِ آفرینش سے لے کر قیامت تک آئے ہیں اور آئیں گے، سب کو اللہ تعالیٰ ایک خاص دن جمع فرمائے گا۔ یہ جمع ہونا ایک مقررہ وقت پر ہوگا، جو اللہ کے علم میں طے شدہ ہے، اور وہ دن قیامت کا دن ہے۔ اس دن کوئی شخص اپنے اعمال سے بھاگ نہیں سکے گا، نہ کوئی آگے بڑھ سکے گا اور نہ پیچھے ہٹ سکے گا۔
یہ آیتِ کریمہ ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی جو بعث اور حشر کو محال سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم مر کر خاک ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر زندہ کیے جائیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پہلے اور بعد والے سب کو وہی اللہ جمع کرے گا جو انہیں پیدا کرنے پر قادر ہے۔ یہ بات دراصل اللہ کی قدرتِ کاملہ کا اظہار ہے کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا، وہ دوبارہ پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی کو سنجیدگی سے لیں اور یہ یقین رکھیں کہ ہماری موت کے بعد بھی ایک زندگی ہے جہاں ہر عمل کا حساب ہوگا۔ یہ عقیدہ انسان کو نیکی کی طرف راغب کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ ہم سب کو ایک دن جمع ہونا ہے، تو ہمیں چاہیے کہ اس دن کی تیاری کریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بنیں۔ یہ عقیدہ ہمیں صبر، تقویٰ اور نیک اعمال کی طرف لے جاتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت کی طرف لے جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 47-51 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 49
سورہ واقعہ آیت 49 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ بےشک پہلے اور پچھلےسورہ آیت 49/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 47–51. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








