ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَذْءُومًا: ذلیل و رسوا، عیب دار۔
- مَّدْحُورًا: دھتکارا ہوا، رحمت سے دور کیا گیا۔
- لَمَن تَبِعَكَ: جو بھی تیرا پیروکار ہو۔
- لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ: میں ضرور جہنم کو بھر دوں گا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اس کے تکبر اور سرکشی کے بعد جنت سے نکالنے کا حکم سنایا۔ فرمایا: "اے ابلیس! تو ذلیل اور رسوا ہو کر، دھتکارا ہوا یہاں سے نکل جا۔" یہ وہ لمحہ تھا جب ابلیس کو اپنے انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے جنت سے محروم کیا گیا اور رحمتِ الٰہی سے دور کر دیا گیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اسے سخت وعید سنائی کہ جو بھی انسان یا جن تیرا پیروکار بنے گا، تیرے بہکاوے میں آئے گا اور تیری اطاعت کرے گا، تو میں اپنے وعدے کے مطابق جہنم کو تم سب سے بھر دوں گا۔ یہ اللہ کا عادلانہ فیصلہ ہے کہ جو لوگ حق کو چھوڑ کر باطل کی پیروی کریں گے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور تکبر کا انجام ہمیشہ ذلت اور رسوائی ہے۔ ابلیس نے اپنے علم اور عبادت پر گھمنڈ کیا، تو اللہ نے اسے اس کی حقیقت دکھا دی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال پر غرور نہ کریں، بلکہ عاجزی اور اطاعت کے ساتھ اللہ کے حکموں کو مانیں۔
یہ آیت اہل ایمان کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ شیطان کے بہکاوے سے بچیں اور اس کی پیروی سے پرہیز کریں۔ جو لوگ شیطان کے راستے پر چلیں گے، ان کا انجام جہنم ہے، لیکن جو اللہ کے راستے پر چلیں گے، ان کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ اللہ رحم کرنے والا ہے، لیکن وہ عدل کرنے والا بھی ہے، اس لیے ہمیں اپنے اعمال کا حساب رکھنا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس نے ابلیس کو واضح طور پر بتا دیا کہ اس کے پیروکاروں کا انجام کیا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دنیا میں اللہ کی اطاعت کریں اور اپنی آخرت سنواریں، کیونکہ آخرت ہی اصل زندگی ہے۔ اللہ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 16-20 — اعراف
ترجمہ — اعراف 18
سورہ اعراف آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خدا نے) فرمایا، نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو…سورہ آیت 18/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








