ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- جِهَارًا: عَلانیہ، کھلم کھلا، ظاہراً۔
تفسیر:
پھر نوح علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! جب میں نے انہیں آہستہ اور خفیہ انداز میں دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول نہ کیا، اس کے بعد میں نے انہیں کھلم کھلا، عَلانیہ اور بلند آواز سے دعوت دی۔ میں نے اپنی دعوت کو چھپانے کے بجائے اعلانیہ انداز اختیار کیا تاکہ ہر شخص تک پیغامِ حق پہنچ سکے اور کوئی عذر باقی نہ رہے۔
نوح علیہ السلام کی دعوت کا انداز انتہائی حکمت والا تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کی اصلاح کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کیا: کبھی خفیہ انداز میں نصیحت کی، کبھی عَلانیہ، کبھی انفرادی طور پر اور کبھی اجتماعی۔ یہ ایک مخلص داعی کی عظیم مثال ہے جو اپنی قوم کی ہدایت کے لیے ہر حربہ آزماتا ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دعوتِ دین میں حکمت اور موقع کی مناسبت سے انداز بدلنا چاہیے۔ کبھی نرمی اور خاموشی سے بات دل میں اترتی ہے، تو کبھی عَلانیہ اور بلند آواز سے حق کو واضح کرنا ضروری ہوتا ہے۔ نوح علیہ السلام نے 950 سال تک اپنی قوم کی ہدایت کے لیے جدوجہد کی، اور ان کا صبر و استقامت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آج ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے گھر والوں، رشتہ داروں اور معاشرے تک حق کا پیغام پہنچائیں، چاہے لوگ سنیں یا نہ سنیں۔ ہمارا کام صرف پہنچانا ہے، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نوح علیہ السلام کی دعوت کا انداز ہمیں سکھاتا ہے کہ مایوسی کبھی نہیں کرنی چاہیے، چاہے لوگ کتنا ہی انکار کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی دعاؤں کو ضرور سنتا ہے اور انہیں کبھی ناکام نہیں کرتا۔
📜 آیت 6-10 — نوح
ترجمہ — نوح 8
سورہ نوح آیت 8 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہاسورہ آیت 8/28 — نوح نوح (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نوح سنیں, نوح ترجمہ, نوح mp3, نوح pdf. آیت 6–10. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








