ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- شَأْنٌ: حالت، معاملہ، فکر اور پریشانی کا سبب۔
- يُغْنِيهِ: اسے مشغول رکھتا ہے، اسے دوسروں سے بےنیاز کر دیتا ہے۔
تفسیرِ آیہ:
یہ آیتِ کریمہ قیامت کے اس ہولناک دن کا نقشہ کھینچتی ہے جب انسان اپنے گہرے رشتوں سے بھی منہ موڑ لے گا۔ اس دن ہر شخص اپنے ہی معاملے میں اس قدر غرق ہوگا کہ اسے اپنے سے زیادہ عزیز لوگ بھی یاد نہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دن ہر انسان کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے مکمل طور پر مشغول کر لے گی، یعنی اس کی اپنی فکر، اپنا حساب اور اپنی نجات کا معاملہ اسے دوسروں کی طرف توجہ دینے سے بالکل بےنیاز کر دے گا۔
اس دن ماں باپ، بھائی، بیوی اور بچے — سب اپنی اپنی فکر میں ایسے ڈوبے ہوں گے کہ کسی کو کسی کی خبر نہ ہوگی۔ یہ اس دن کی شدت اور ہولناکی کا بیان ہے، جب ہر شخص صرف اپنی نجات کے بارے میں سوچے گا۔ قرآنِ کریم نے اس منظر کو اس لیے پیش کیا ہے تاکہ ہم اس دن کی تیاری کریں، اور سمجھ لیں کہ وہاں کوئی دوست، کوئی رشتہ دار، کوئی سفارشی کام نہ آئے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ اگر آج ہم اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں، تو اس دن ہمارا شان خوشگوار ہوگا اور ہم اللہ کی رحمت کے سائے میں ہوں گے۔ لیکن اگر آج ہم غفلت میں رہے، تو وہ دن بہت سخت ہوگا۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو سنواریں، اپنے خالق کے احکامات پر عمل کریں، اور اس دن کے لیے توشہ تیار کریں جب ہر شخص صرف اپنے اعمال کا سامنا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور اپنی رحمت سے نوازے۔ آمین۔
📜 آیت 35-39 — عبس
ترجمہ — عبس 37
سورہ عبس آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو…سورہ آیت 37/42 — عبس عبس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عبس سنیں, عبس ترجمہ, عبس mp3, عبس pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








