ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ضَيْفِ: مہمان، یہ لفظ واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں مراد فرشتے ہیں۔
- إِبْرَاهِيمَ: حضرت ابراہیم علیہ السلام، اللہ کے خلیل (دوست)۔
تفسیر:
اے نبی! آپ اپنے بندوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا حال سنائیے۔ یہ مہمان فرشتے تھے جو اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ ان کی آمد کا مقصد دو عظیم خبریں تھیں: ایک یہ کہ انہیں بیٹے کی بشارت دی جائے، اور دوسری یہ کہ قوم لوط پر آنے والے عذاب کی اطلاع دی جائے۔
یہ واقعہ اس لیے بیان کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ اللہ کے فضل و رحمت اور اس کے عذاب دونوں کا مشاہدہ کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت اور ان کی قوم کے ساتھ ان کا برتاؤ، اور پھر اللہ کی طرف سے ان کی تائید — یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتے ہیں کہ وہ لوگوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کے واقعے سے آگاہ کریں۔ اس میں بڑا سبق ہے کہ اللہ کے دوستوں کی عزت و تکریم کی جائے، اور ان کی دعوت کو قبول کیا جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرشتوں کی ضیافت کی، اور اللہ نے انہیں بیٹے کی بشارت دی۔ یہ سکھاتا ہے کہ مہمان نوازی اور نیکی کرنا اللہ کی رحمت کو دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ کا عذاب ظالموں کے لیے ہے، لیکن مومنوں کے لیے رحمت اور مغفرت ہے۔ آئیے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح مہمان نواز بنیں، اور اللہ کی رحمت کے طلب گار رہیں۔
📜 آیت 49-53 — حجر
ترجمہ — حجر 51
سورہ حجر آیت 51 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادوسورہ آیت 51/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 49–53. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








