اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَسَاطِيرُ: جمع "أسطورۃ" یعنی پہلے لوگوں کی کہانیاں، افسانے اور جھوٹی روایات۔
الْأَوَّلِينَ: پہلے گزرے ہوئے لوگ، اگلی امتیں۔
تفسیر آیت:
جب ان مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نازل کیا ہے؟ تو وہ حق کو جھٹلاتے ہوئے اور استہزاء کرتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں، بس پہلے لوگوں کی کہانیاں اور جھوٹے افسانے ہیں جو محمد اپنی طرف سے گھڑ کر لے آئے ہیں۔ وہ اس لیے ایسا کہتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اور وہ حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ یہ قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے، جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، لیکن ان کی جہالت اور ہٹ دھرمی انہیں اسے جھٹلانے پر مجبور کرتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق کو جھٹلانے والوں کی ہمیشہ یہی عادت رہی ہے کہ وہ حق کو بے بنیاد بہانے اور جھوٹے الزامات سے رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اے مسلمان! تم اس پر ثابت قدم رہو، کیونکہ قرآن وہ کتاب ہے جو ہر دور میں سچائی اور ہدایت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اس کی تعلیمات میں انسانیت کے لیے نجات ہے، چاہے مخالفین کتنا ہی انکار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ایسا معجزہ بنایا ہے جو قیامت تک قائم رہے گا، اور ہر دور کے لوگ اس کی حقانیت کا اعتراف کریں گے۔ تم اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے کلام کو اپنی زندگی کا دستور بناؤ، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں
ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔