ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَنْحِتُونَ: تم پہاڑوں کو تراش کر کاٹتے ہو۔
- فَارِهِينَ: ماہر، چالاک، یا (دوسرے قول کے مطابق) اتراتے ہوئے، خوش حال اور عیش پرست۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ قومِ ثمود کی طرف اپنے نبی حضرت صالح علیہ السلام کے ذریعے بھیجی گئی تنبیہ کا حصہ بیان فرما رہے ہیں۔ قومِ ثمود کو اللہ نے بے شمار نعمتیں عطا کی تھیں — سرسبز باغات، بہتی ہوئی نہریں، کھیتیاں اور لذیذ پھلوں والے کھجور کے درخت۔ ان نعمتوں کے باوجود وہ شکرگزاری کے بجائے سرکشی اور غرور میں مبتلا تھے۔
ان کی ایک نمایاں عادت یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش کر عظیم الشان مکانات بناتے تھے۔ یہ کام وہ نہایت مہارت اور فن کاری سے کرتے تھے، لیکن یہ مہارت ان کے لیے باعثِ فخر اور تکبر بن گئی تھی۔ وہ اپنے ان پختہ اور مضبوط گھروں پر اتراتے تھے، جیسے انہیں کبھی موت یا عذاب آ ہی نہیں سکتا۔
اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلاتا ہے کہ یہ تمام آسائشیں اور پہاڑوں میں تراشے گئے مکانات انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے۔ یہ دنیاوی زندگی عارضی ہے، اور جو لوگ اللہ کی نعمتوں کو دیکھ کر شکر نہیں کرتے بلکہ سرکشی کرتے ہیں، ان کا انجام برا ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہمارے لیے آزمائش ہیں، نہ کہ فخر کا ذریعہ۔ ہم جتنی بھی خوبصورت عمارتیں بنا لیں، جتنا بھی مال جمع کر لیں، یہ سب کچھ ایک دن ختم ہو جائے گا۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم اللہ کے حکموں پر عمل کریں، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اپنی مہارتوں اور صلاحیتوں کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی نافرمانی پر اس کا عذاب بہت سخت ہے، لیکن اس کی رحمت بھی بے حد وسیع ہے — جو بھی توبہ کر لے، اللہ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کی اطاعت میں گزاریں اور اس کے فضل و رحمت کے امیدوار بنیں۔
📜 آیت 147-151 — شعراء
ترجمہ — شعراء 149
سورہ شعراء آیت 149 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش خراش کر گھر بناتے…سورہ آیت 149/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 147–151. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








