ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَإِنْ كَانُوا لَيَقُولُونَ: "اور وہ یقیناً کہا کرتے تھے" — یہاں "إِنْ" تخفیف سے ہے، یعنی وہ لوگ (کفارِ مکہ) اس بات کو کہتے تھے۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہلِ مکہ کے کفار کے اس قول کا ذکر فرما رہے ہیں جو وہ آپ کی بعثت سے پہلے کہا کرتے تھے۔ وہ لوگ فخر و غرور کے ساتھ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی وہ کچھ آتا جو پہلے لوگوں کے پاس آیا تھا، یعنی آسمانی کتابیں اور انبیاء علیہم السلام، تو ہم ضرور اللہ کے سچے بندے بن جاتے، خالص عبادت کرنے والے ہوتے، اور ہم سب سے بڑھ کر ایمان لانے والے ہوتے۔
مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کا پردہ فاش کر دیا کہ یہ محض جھوٹ اور خیالِ خام تھا۔ جب ان کے پاس اللہ کا آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآنِ کریم لے کر تشریف لائے — جو تمام پچھلی کتابوں کا نچوڑ اور سب سے عظیم معجزہ ہے — تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور کفر پر اڑے رہے۔ چنانچہ انہیں عنقریب اپنے اس رویے کا انجام دیکھنا ہوگا، جب قیامت کے دن ان پر سخت عذاب نازل ہوگا اور ان کے جھوٹے دعوے بے نقاب ہو جائیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ محض زبانی دعوے کسی کو اللہ کے نزدیک مقبول نہیں بناتے۔ اصل چیز اللہ کے بھیجے ہوئے دین پر عملی اتباع ہے۔ جب اللہ نے ہمیں قرآن اور سنت عطا کی ہے، تو ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کریں، اس پر عمل کریں، اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ آج ہمارے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جس کی تمنا کفارِ مکہ کو تھی، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسے ضائع نہ کریں اور اپنے ایمان کو صرف زبانی نہ رہنے دیں بلکہ اپنے اعمال سے ثابت کریں کہ ہم واقعی اللہ کے سچے بندے ہیں۔
📜 آیت 165-169 — صافات
ترجمہ — صافات 167
سورہ صافات آیت 167 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ لوگ کہا کرتے تھےسورہ آیت 167/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 165–169. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








