اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو دوست نہ پاتے اور نہ مددگار
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ: وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
وَلِیًّا: دوست، مددگار، حامی۔
نَصِیرًا: مدد کرنے والا، ناصر۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اگر کافر تم سے جنگ کرتے تو وہ میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے، جیسے شکست خوردہ لشکر بھاگتا ہے۔ وہ تمہارے سامنے ٹھہر نہ سکتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تائید و نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر وہ بھاگنے کے بعد نہ کوئی دوست پائیں گے جو ان کی حفاظت کرے، نہ کوئی مددگار جو انہیں تمہارے مقابلے میں مدد دے سکے۔ یعنی اللہ کے سوا ان کا کوئی حامی و ناصر نہ ہوگا۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے بشارت اور اطمینان کا پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حفاظت فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔ جب اللہ کسی قوم کا حامی ہو تو کوئی طاقت اس کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یہ اہلِ ایمان کے لیے باعثِ تقویت ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی راہ میں جہاد کرتے رہیں، کیونکہ فتح و نصرت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد کا وعدہ فرماتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب ہم اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ ہمارے دلوں میں سکون ڈالتا ہے اور دشمنوں کو ہمارے سامنے بے بس کر دیتا ہے۔ یہ وعدہ صرف اسی امت کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہیں، اللہ پر توکل کریں اور اس کی راہ میں جو بھی قربانی دینی پڑے، اس کے لیے تیار رہیں۔ اللہ ہر حال میں اپنے بندوں کا حامی و ناصر ہے۔
خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا کہ تم ان کو حاصل کرو گے سو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے۔ غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہو اور وہ تم کو سیدھے رستے پر چلائے
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔