اعراف · 113/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوٓاْ إِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ  ۝١١٣
Wa jaaa`as saharatu Fir`awna qaaloo inna lanaa la ajjran in kunnaa nahnul ghaalibeen
📖 اردو ترجمہ
(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • السَّحَرَةُ: جادوگران، وہ لوگ جو جادو کے فن میں ماہر تھے۔
  • أَجْرًا: انعام، صلہ، مالی معاوضہ۔
  • الْغَالِبِينَ: غالب آنے والے، فتح یاب ہونے والے۔

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے اپنا معجزہ پیش کیا اور اس کی جھوٹی خدائی کا پردہ چاک کیا، تو فرعون نے اپنی شکست کو چھپانے اور لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے اپنے شہر کے تمام ماہر جادوگروں کو جمع کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ جب وہ جادوگر فرعون کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنی مہارت اور فن کی قدر دلواتے ہوئے کہا: "کیا ہمیں واقعی کوئی انعام ملے گا اگر ہم موسیٰ پر غالب آگئے؟" انہوں نے یہ شرط اس لیے رکھی کہ وہ جانتے تھے کہ یہ مقابلہ بہت بڑا ہے اور ان کی محنت ضائع نہیں ہونی چاہیے۔ فرعون نے انہیں یقین دلایا کہ وہ انہیں اجر عظیم دے گا اور وہ اس کے مقربین میں شامل ہو جائیں گے۔

یہاں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیا والے اپنے کاموں کا بدلہ دنیا میں چاہتے ہیں، لیکن اہل ایمان کی نظر آخرت پر ہوتی ہے۔ جادوگر فرعون سے دنیا کا مال مانگ رہے تھے، لیکن جب انہوں نے حق دیکھ لیا تو انہوں نے دنیا کو ٹھکرا دیا اور اللہ کی رضا کو اختیار کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب سچائی واضح ہو جائے تو انسان کا دل بدل جاتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی گمراہ کیوں نہ ہو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا کی چمک دمک اور عارضی فائدے انسان کو حق سے غافل نہیں کرنے چاہئیں۔ جادوگروں نے ابتدا میں دنیا کا اجر مانگا، لیکن اللہ نے ان کے دلوں میں ہدایت ڈالی اور وہ ایمان لے آئے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، چاہے وہ کیسا ہی گمراہ کیوں نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ حق کی تلاش میں رہیں اور دنیا کے فریب میں نہ آئیں، کیونکہ آخرت کا اجر ہمیشہ رہنے والا ہے اور دنیا کا اجر فانی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 111-115 — اعراف

111قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَأَرۡسِلۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ 
انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے
112يَأۡتُوكَ بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍ 
کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں
113وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوٓاْ إِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ 
(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے
114قَالَ نَعَمۡ وَإِنَّكُمۡ لَمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ 
(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے
115قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحۡنُ ٱلۡمُلۡقِينَ 
(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
113آیت

ترجمہ — اعراف 113

سورہ آیت 113/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 111–115. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں