ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَصَدَّىٰ: یعنی توجہ دینا، استقبال کرنا، کسی کی طرف متوجہ ہونا۔ یہ "تَصَدِّی" سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کی طرف رخ کرنا اور اسے اہمیت دینا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ کو ایک نہایت اہم اور نرم انداز میں تنبیہ فرما رہے ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ایک اندھے صحابی عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا ذکر تھا جو آپ ﷺ کے پاس علم حاصل کرنے آئے تھے، لیکن آپ ﷺ اس وقت قریش کے ایک بڑے سردار (ولید بن مغیرہ یا عتبہ بن ربیعہ) سے گفتگو میں مشغول تھے، اس لیے ان سے اظہار بے اعتنائی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر یہ فرمایا کہ جو شخص علم و ہدایت کی طلب میں آیا، اس سے آپ نے اعراض کیا، لیکن جو مال و جاہ کی وجہ سے خود کو بے نیاز سمجھتا ہے، اس کی طرف آپ توجہ دے رہے ہیں۔
یہاں "فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّىٰ" کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس مستغنی شخص کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، اس کے کلام کو سننے کے لیے اس کا استقبال کر رہے ہیں، اور اسے اہمیت دے رہے ہیں، حالانکہ اس کے دل میں ہدایت کی طلب نہیں۔ یہ ایک ایسا انداز ہے جو امت کے لیے ایک عظیم سبق لے کر آتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اسلام میں کسی انسان کی قدر اس کے مال، جاہ اور دنیوی مرتبے سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے دل کی طلب اور ہدایت کی پیاس سے ہوتی ہے۔ ایک غریب، اندھا اور نادار صحابی جو علم کی طلب میں آیا، وہ اللہ کے نزدیک اس بڑے سردار سے زیادہ محبوب تھا جو اپنے مال و جاہ پر نازاں تھا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ لوگوں کو ان کے ظاہری مرتبے سے نہیں، بلکہ ان کے دینی جذبے اور سچائی کی طلب سے پرکھیں۔ جو شخص ہدایت کا طالب ہو، چاہے وہ کتنا ہی غریب اور کمزور ہو، اسے ہر حال میں اہمیت دینی چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور یہی وہ اخلاق ہے جو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں اس اصول کو اپنائیں کہ ہر انسان کی عزت اس کے ایمان اور عمل سے ہے، نہ کہ اس کے دنیاوی رتبے سے۔
📜 آیت 4-8 — عبس
ترجمہ — عبس 6
سورہ عبس آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہوسورہ آیت 6/42 — عبس عبس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عبس سنیں, عبس ترجمہ, عبس mp3, عبس pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








