ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- السَّحَرَةُ: جادوگر، جادو کرنے والے۔
- أَلْقُوا: پھینک دو، ڈال دو۔
- مَا أَنتُم مُلْقُونَ: جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔
تفسیر:
جب فرعون کے بلائے ہوئے جادوگر موسٰی علیہ السلام کے پاس آئے، تو موسٰی علیہ السلام نے ان سے فرمایا: "تم جو کچھ پھینکنے والے ہو، وہ پھینک دو۔" یعنی اپنی رسیاں اور عصائیں زمین پر ڈال دو۔ یہ فرمانِ موسٰی علیہ السلام نہایت اطمینان اور یقینِ کامل کے ساتھ تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حق ان کے ساتھ ہے اور باطل کو ہارنا ہی ہے۔
یہاں موسٰی علیہ السلام کا یہ اندازِ گفتگو بذات خود ایک معجزہ تھا۔ انہوں نے نہ تو خوف ظاہر کیا، نہ ہچکچاہٹ، بلکہ بڑے وثوق سے جادوگروں کو دعوت دی کہ پہلے تم اپنا کمال دکھاؤ۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حق کے علمبردار کو کبھی باطل کی طاقت سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور حق پر قائم رہتا ہے، تو اسے کسی بھی مخالف طاقت کا خوف نہیں ہوتا۔ موسٰی علیہ السلام نے جادوگروں کے سامنے اپنی کمزوری ظاہر نہیں کی، بلکہ انہیں للکارا۔ یہ ہمارے لیے پیغام ہے کہ ہم بھی اپنے ایمان اور یقین کی طاقت سے باطل کے سامنے ڈٹ جائیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے۔ جب آپ کے پاس قرآن اور سنت کی روشنی ہو، تو آپ کو کسی کی دھمکی یا طاقت سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جو اس کی راہ میں ثابت قدم رہتے ہیں۔
📜 آیت 78-82 — یونس
ترجمہ — یونس 80
سورہ یونس آیت 80 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم…سورہ آیت 80/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 78–82. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








