ہم درجاتٍ عند اللہ (وہ اللہ کے ہاں درجات والے ہیں)۔ واللہ بصیرٌ بما یعملون (اور اللہ جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے خوب دیکھنے والا ہے)۔
معانی الفاظ:
درجات: مراتب اور منزلیں، اونچے اور نیچے درجے۔
عند اللہ: اللہ کے نزدیک، اللہ کے ہاں۔
بصیر: دیکھنے والا، جاننے والا، ہر چیز سے باخبر۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ لوگ اللہ کے ہاں ایک جیسے نہیں ہیں، بلکہ ان کے درجات اور مراتب مختلف ہیں۔ جو لوگ نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں، وہ جنت میں بلند درجات حاصل کریں گے، اور جو لوگ گناہ اور نافرمانی پر قائم رہتے ہیں، وہ جہنم کے نشیب میں گرے ہوئے ہوں گے۔ یہ تفاوت صرف دنیا کے ظاہری حالات کی بنا پر نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں ان کے اعمال کی بنیاد پر طے ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ہر شخص کے عمل کو دیکھ رہا ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ کوئی عمل اس کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں، اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ یہ بات مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ان کی محنت اور نیکیاں ضائع نہیں ہوں گی، اور گنہگاروں کے لیے ڈر کی بات ہے کہ ان کے برے اعمال بھی چھپے نہیں رہیں گے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ ہماری زندگی کا ہر لمحہ، ہر عمل اللہ کی نظر میں ہے۔ اگر ہم نیکی کریں گے تو ہمارے درجات بلند ہوں گے، اور اگر برائی کریں گے تو ہمارے درجات گر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اختیار دیا ہے کہ ہم خود اپنا مقام منتخب کریں۔ آئیے ہم اپنے اعمال کو سنواریں، اپنے درجات کو بلند کریں، اور اللہ کی رحمت اور جنت کے اعلیٰ مقامات کے حقدار بنیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اور وہ عدل کرنے والا ہے، ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دینے والا ہے۔
اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے
خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے
(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
سورہ آل عمران آیت 163 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے…
سورہ آیت 163/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 161–165. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔