انفال · 22/75
ترجمہ تلفظ — انفال
۞ إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ۝٢٢
Inna sharrad dawaaabbi `indal laahis summul bukmul lazeena laa ya`qiloon
📖 اردو ترجمہ
کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الدَّوَابّ: زمین پر چلنے پھرنے والی تمام مخلوقات، جانور۔
  • الصُّمّ: بہرے، جن کے کان حق سننے سے بند ہوں۔
  • الْبُكْمُ: گونگے، جن کی زبانیں حق بولنے سے عاجز ہوں۔
  • لَا يَعْقِلُونَ: جو عقل سے کام نہیں لیتے، جو اللہ کے حکم کو سمجھتے نہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کی بدترین حالت بیان فرماتا ہے جو حق کو سن کر بھی اسے قبول نہیں کرتے اور سمجھ کر بھی اس پر عمل نہیں کرتے۔ فرمایا: بیشک اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی تمام مخلوقات میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جو بہرے اور گونگے ہیں، یعنی وہ لوگ جن کے کان حق کی آواز سننے سے بند ہو گئے ہیں اور جن کی زبانیں حق بولنے سے عاجز ہیں، اور وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔

یہاں بہرے پن اور گونگے پن سے مراد جسمانی بہرا پن اور گونگا پن نہیں ہے، بلکہ یہ دل کی اندھی اور کان کی بہری پن ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کی آیات سنتے ہیں لیکن ان پر غور نہیں کرتے، نبی کریم ﷺ کی دعوت سنتے ہیں لیکن اسے قبول نہیں کرتے، اور اللہ کے احکام کو سمجھتے ہوئے بھی ان سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے وہ سن ہی نہیں رہے اور بول ہی نہیں رہے، حالانکہ ان کے کان اور زبانیں موجود ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں "دواب" (چلنے پھرنے والے جانور) کہہ کر ان کی مذمت فرمائی ہے کیونکہ وہ اپنی عقل سے اتنا فائدہ نہیں اٹھاتے جتنا جانور اپنی فطرت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جانور اپنے مالک کی آواز پہچانتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں، لیکن یہ لوگ اپنے خالق کی آواز کو پہچانتے ہوئے بھی اس کی اطاعت سے انکار کر دیتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کان دیے ہیں تاکہ ہم حق سنیں، آنکھیں دی ہیں تاکہ ہم اللہ کی نشانیاں دیکھیں، اور عقل دی ہے تاکہ ہم غور و فکر کریں۔ اگر ہم ان نعمتوں سے صحیح استفادہ نہیں کرتے، قرآن نہیں سنتے، علم حاصل نہیں کرتے، اور اللہ کے احکام پر عمل نہیں کرتے، تو ہم بھی انہی لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جنہیں اللہ نے سب سے بدتر قرار دیا ہے۔

آئیے ہم اپنے کانوں کو قرآن سننے کے لیے کھولیں، اپنی زبانوں کو حق بولنے کے لیے استعمال کریں، اور اپنی عقل سے غور و فکر کریں تاکہ ہم اللہ کے نزدیک محبوب بندے بن سکیں، نہ کہ بدترین مخلوق۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 20-24 — انفال

20يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ
اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو
21وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے
22۞ إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے
23وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ
اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے
24يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے
انفالقرآن فہرست
75آیت
مدنیRevelation
22آیت

ترجمہ — انفال 22

سورہ انفال آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے…

سورہ آیت 22/75 — انفال الأنفال (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انفال سنیں, انفال ترجمہ, انفال mp3, انفال pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں