ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَرَقْنَا: ہم نے الگ کیا، شگاف ڈالا۔
- بِكُمُ: تمہاری وجہ سے، تمہارے لیے۔
- آلَ فِرْعَوْنَ: فرعون کے خاندان، اس کی قوم اور اس کے لشکر۔
تفسیر:
اے بنی اسرائیل! اُس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تمہاری خاطر دریائے نیل کو شگافتہ کر کے دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ یہ تمہارے لیے ایک عظیم نشانی اور اللہ کی قدرت کا کھلا معجزہ تھا۔ جب تم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دریا کے کنارے پہنچے اور سامنے فرعون کا لشکر تھا، پیچھے سمندر کا ہولناک پانی، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے دریا کو خشک راستوں میں بدل دیا، اور تم محفوظ طریقے سے اس کے پار نکل گئے۔
یہ نجات صرف پانی سے نہیں تھی، بلکہ اللہ نے تمہیں فرعون اور اس کے ظالم لشکر کے شر سے بھی نجات دی۔ پھر جب فرعون اور اس کے ساتھی تمہارے پیچھے اسی راستے پر چلے، تو اللہ نے انہیں پانی میں غرق کر دیا، اور تم اپنی آنکھوں سے ان کی تباہی اور ہلاکت کا منظر دیکھ رہے تھے۔ یہ منظر تمہارے لیے عبرت اور اللہ کی قدرت کا زندہ ثبوت تھا۔
اس واقعے میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور رحمت کا پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہمیشہ مصیبتوں سے نکالتا ہے، جب وہ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اور عدل کا پہلو یہ ہے کہ ظالم کبھی بچ نہیں سکتا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پر یقین رکھو، چاہے حالات کتنے ہی مشکل ہوں، کیونکہ اللہ ہر مشکل کا راستہ نکالتا ہے۔ جس طرح اُس نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار پہنچایا، اُسی طرح وہ ہر مومن کو تنگیوں سے نکال کر کشادگی عطا فرماتا ہے۔
یاد رکھو، اللہ کی نعمتوں کو یاد کرنا ایمان کی نشانی ہے، اور اُس کی قدرت پر غور کرنا دل کو جلا بخشتا ہے۔ جب تم اپنی زندگی میں مشکلات دیکھو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے لیے بھی کوئی راستہ نکالے گا، جیسے اُس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا کو خشک راستہ بنا دیا تھا۔
📜 آیت 48-52 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 50
سورہ آیت 50/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 48–52. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








