اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَادَّارَأْتُمْ: آپس میں جھگڑا کیا، ایک دوسرے پر الزام تراشی کی، ہر ایک نے قتل کی تہمت دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی۔
مُخْرِجٌ: ظاہر کرنے والا، باہر نکالنے والا۔
تَكْتُمُونَ: چھپاتے تھے، پوشیدہ رکھتے تھے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کے اس قبیح واقعے کی یاد دلاتا ہے جب انہوں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا۔ قتل کے بعد ان کے درمیان سخت جھگڑا اور تنازعہ پیدا ہو گیا، ہر ایک اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور قتل کا الزام دوسرے پر ڈال رہا تھا۔ حالانکہ اصل قاتل انہیں میں سے تھا اور وہ اپنے جرم کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اس راز کو ضرور ظاہر کرے گا جو تم چھپا رہے ہو، کیونکہ اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں متنبہ کیا کہ تمہارے جھگڑے اور الزام تراشی سے حقیقت نہیں بدلے گی، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو ظاہر کرنے والا ہے جو تم چھپاتے ہو۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے اور وہ ہر پوشیدہ راز کو روزِ قیامت ظاہر کرے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال میں ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے، چاہے ہم اسے چھپانے کی کتنی ہی کوشش کریں۔ جھوٹ، فریب اور الزام تراشی سے حقیقت نہیں چھپتی، اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو رسوا کرے گا جو حق کو چھپاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سچائی پر قائم رہیں، کیونکہ سچائی ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہو تو ہمیں جھگڑے اور الزام تراشی کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور حق کو قبول کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ ہی حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتا دے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو، کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، (پھر) خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی
موسیٰ نے کہا کہ خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو، نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو۔ اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو۔ کہنے لگے، اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں۔ غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا، اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔