لَعَنَهُ اللہُ: اللہ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
نَصِیبًا مَّفْرُوضًا: حصہ جو مقرر اور معین ہو، یعنی ایک خاص تعداد یا گروہ۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے حال کا ذکر فرمایا ہے، جسے اللہ نے اپنی رحمت سے نکال دیا اور اس پر لعنت کی، یعنی اسے ہمیشہ کے لیے اپنی رحمت سے محروم کر دیا۔ اس کے باوجود شیطان نے اپنی سرکشی اور ضد میں اللہ تعالیٰ سے کہا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقررہ حصہ ضرور لے کر رہوں گا، یعنی میں تیرے بندوں کے ایک خاص گروہ کو اپنی طرف مائل کر لوں گا اور انہیں گمراہی کے راستے پر چلاؤں گا۔ یہ شیطان کا وہ عہد ہے جو اس نے اللہ کے حضور کیا، اور وہ اس پر قائم ہے۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ انسانوں کو سیدھے راستے سے بھٹکا دے، انہیں گناہوں کی دعوت دے اور انہیں اللہ کی اطاعت سے دور رکھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اور اس نے اللہ کے سامنے یہ عہد کیا ہے کہ وہ بنی آدم کو گمراہ کرے گا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم شیطان کے دھوکے سے بچیں، اس کی وسوسہ اندازیوں سے اللہ کی پناہ مانگیں، اور اپنے ایمان و عمل کو مضبوط کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کی روشنی دی ہے، جو شیطان کے حملوں سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نماز، ذکرِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن کے ذریعے اپنے دلوں کو منور رکھیں، تاکہ شیطان ہمیں گمراہ نہ کر سکے۔ یاد رکھیں، جو شخص اللہ سے جڑا رہتا ہے، شیطان اس پر غالب نہیں آ سکتا۔ اللہ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا
اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔