وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَعِدُهُمْ: شیطان انہیں (لمبی عمر، دنیاوی مال و دولت اور قیامت کے دن کی بخشش وغیرہ) کے جھوٹے وعدے دیتا ہے۔
يُمَنِّيهِمْ: انہیں خوش فہمیاں دلاتا ہے، ایسی آرزوئیں اور امیدیں دلاتا ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔
غُرُورًا: دھوکہ، فریب، باطل اور جھوٹ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں شیطان کے حربوں اور اس کے پیروکاروں کے انجام سے آگاہ فرما رہے ہیں۔ شیطان اپنے متبعین کو طرح طرح کے جھوٹے وعدے دیتا ہے، کبھی انہیں لمبی عمر کی امید دلاتا ہے، کبھی دنیا کی دولت اور عیش و عشرت کا لالچ دیتا ہے، کبھی یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ آخرت میں بھی بخشش ہو جائے گی، اور کبھی انہیں یہ خوش فہمی دلاتا ہے کہ وہ نیک ہیں اور ان پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔ یہ سب محض خیالات اور جھوٹی آرزوئیں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ شیطان کا اصل مقصد انسان کو راہِ راست سے بھٹکانا اور اسے تباہی کے گڑھے میں دھکیلنا ہے۔ وہ جو کچھ بھی وعدہ کرتا ہے، وہ محض دھوکہ اور فریب ہے، جس کا کوئی سرا سچائی سے نہیں جڑا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم شیطان کے دھوکے میں نہ آئیں۔ شیطان ہمیں گناہوں پر آمادہ کرتا ہے اور یہ وعدہ کرتا ہے کہ تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گناہ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے وعدوں پر بھروسہ کریں، جو سچے اور پائیدار ہیں، نہ کہ شیطان کے جھوٹے وعدوں پر۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم حق و باطل میں تمیز کریں اور شیطان کے فریب سے بچیں۔ یاد رکھیں، شیطان کا ہر وعدہ دھوکہ ہے، جبکہ اللہ کا ہر وعدہ سچا ہے۔ اللہ کی پناہ مانگیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں تاکہ شیطان کے وسوسے ہم پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔
اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ابدالآباد ان میں رہیں گے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔