ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَرْجِعُونَهَا: تم اس روح کو واپس لوٹا دو
- صَادِقِينَ: سچے ہو، اپنے دعوے میں سچے ہو
تفسیر:
جب کسی شخص کی روح نکل کر حلق تک پہنچ جاتی ہے اور وہ جانکنی کی حالت میں ہوتا ہے، تو اس وقت اللہ تعالیٰ انسان کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: کیا تم اس روح کو واپس لوٹا سکتے ہو؟ کیا تم میں یہ طاقت ہے کہ اس نکلتی ہوئی روح کو جسم میں واپس بھیج دو؟
یہ ایک چیلنج ہے ان لوگوں کے لیے جو قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کا انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کے اختیار سے باہر ہیں۔ اگر تم واقعی سچے ہو کہ تم پر کوئی قدرت حاکم نہیں، کوئی حساب و کتاب نہیں، اور تم اپنے اعمال کے ذمہ دار نہیں، تو پھر اس نکلتی ہوئی روح کو واپس کیوں نہیں لوٹا لیتے؟
یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب انسان کی تمام تر طاقتیں، سائنس، اور تدبیریں بے بس ہو جاتی ہیں۔ کوئی ڈاکٹر، کوئی دوا، کوئی ٹیکنالوجی اس روح کو واپس نہیں لا سکتی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ زندگی اور موت مکمل طور پر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب انسان اپنی جان کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا، تو پھر وہ اللہ کی گرفت اور حساب سے کیسے بچ سکتا ہے؟
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ جس لمحے ہم اپنے کسی عزیز کو موت کے عالم میں دیکھتے ہیں، ہماری ساری طاقتیں جواب دے جاتی ہیں۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کتنے کمزور ہیں اور اللہ کتنا قادر ہے۔ کاش ہم اسی لمحے کو یاد رکھیں جب ہم گناہوں میں مشغول ہوتے ہیں! کیا ہم اس دن کے لیے تیاری کر رہے ہیں جب ہماری روح حلق تک پہنچے گی؟ کیا ہمارے اعمال ہمیں اس وقت کوئی سہارا دیں گے؟
یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت میں گزاریں، کیونکہ وہی ہے جو ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھیں اور اپنی آخرت کی فکر کریں۔ آمین۔
📜 آیت 85-89 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 87
سورہ آیت 87/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 85–89. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








