ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قَوْمٌ مُّنكَرُونَ: ایسے لوگ جو پہچانے نہ جائیں، جن کی صورت حال ناواقفیت پر دلالت کرے۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے، تو وہ انہیں نہیں پہچانتے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر کہا: "تم تو ایسے لوگ ہو جو مجھے معلوم نہیں، نہ میں تمہیں جانتا ہوں اور نہ تمہاری آمد کا کوئی سبب سمجھ میں آتا ہے۔" یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی صورت میں آئے تھے، اس لیے حضرت لوط علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ان کی قوم کے شریر لوگ انہیں دیکھ کر برا ارادہ نہ کر لیں، کیونکہ ان کی قوم بدکاری میں مشہور تھی۔
یہاں حضرت لوط علیہ السلام کی بے حد شفقت اور مہمان نوازی کا پہلو نمایاں ہے کہ انہوں نے فوراً ان ناواقف مہمانوں کو اپنے گھر لے جانے کا ارادہ کیا، تاکہ وہ قوم کے شر سے محفوظ رہیں۔ ان کا یہ اندیشہ بجا تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی قوم کے لوگ کس قدر بے حیاء اور بدکار ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک مومن کو ہمیشہ مہمان نوازی اور دوسروں کی حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے، چاہے وہ مہمان پہچانے ہوئے ہوں یا نہ ہوں۔ حضرت لوط علیہ السلام نے ناواقف لوگوں کو دیکھ کر انہیں اپنے گھر لے جانے کا ارادہ کیا، یہ ان کی عظیم اخلاقی خوبی تھی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر آنے والے کے ساتھ حسن سلوک کریں، کیونکہ مہمان نوازی ایمان کا حصہ ہے۔ نیز یہ بھی سبق ہے کہ برے معاشرے میں رہتے ہوئے بھی انسان نیکی اور پاکیزگی پر قائم رہ سکتا ہے، جیسے حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کے درمیان رہ کر بھی صالح اور نیک تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی انہی کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 60-64 — حجر
ترجمہ — حجر 62
سورہ حجر آیت 62 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہوسورہ آیت 62/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 60–64. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








