ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آمَنَّا: ہم ایمان لائے، ہم نے یقین کیا۔
- رَبِّ الْعَالَمِینَ: تمام جہانوں کا پروردگار، تمام مخلوقات کا خالق اور پالنے والا۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا مبارک ڈالا اور وہ سانپ بن کر ساحروں کے جھوٹے سانپوں کو نگل گیا، تو ساحروں نے اس معجزے کو دیکھ کر فوراً پہچان لیا کہ یہ کوئی جادو نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے حقیقی معجزہ ہے۔ اسی لمحے ان کے دلوں سے پردہ ہٹ گیا اور وہ سجدے میں گر پڑے۔ انہوں نے بلا کسی تردد اور توقف کے کہا: "ہم ایمان لائے رب العالمین پر" یعنی تمام جہانوں کے پروردگار پر، جو ہر چیز کا خالق ہے، جو آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے، جو موسیٰ اور ہارون کا بھی رب ہے۔
یہ ایمان محض زبانی دعویٰ نہیں تھا بلکہ دل کی گہرائی سے نکلا ہوا یقین تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے فرعون کے غضب اور اس کی دھمکیوں کی پرواہ نہ کی۔ انہوں نے حق کو پہچان لیا اور اس پر ثابت قدم رہے، چاہے اس کی قیمت انہیں اپنی جان سے چکانی پڑے۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کا راستہ کبھی نہیں چھپتا۔ جب سچائی واضح ہو جائے تو انسان کو فوراً اسے قبول کر لینا چاہیے، چاہے اسے کتنی ہی قربانیاں دینی پڑیں۔ ساحر وہ لوگ تھے جو جادو کے ماہر تھے، لیکن جب انہوں نے حقیقت دیکھ لی تو اپنے پیشے، اپنی عزت اور اپنی جان سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔ یہ ایمان کی طاقت ہے کہ انسان کو دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ آج بھی جو شخص سچائی کو پہچان لے اور اس پر عمل کرے، اللہ اسے عزت دیتا ہے اور اس کے دل میں ایسا نور ڈالتا ہے جو دنیا کی ہر روشنی سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب حق ہمارے سامنے واضح ہو تو ہم بلا جھجک اسے قبول کریں اور اللہ رب العالمین پر مکمل بھروسہ رکھیں۔
📜 آیت 119-123 — اعراف
ترجمہ — اعراف 121
سورہ آیت 121/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 119–123. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








