ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُنقَلِبُونَ: لوٹنے والے، واپس جانے والے۔
تفسیر آیت:
جب فرعون نے ساحروں کو سخت عذاب اور موت کی دھمکی دی کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ دوں گا اور تمہیں سولی پر چڑھاؤں گا، تو ان ساحروں نے جو ابھی ابھی ایمان لائے تھے اور جن کے دلوں میں حق کی روشنی چمک اٹھی تھی، بے خوف و خطر جواب دیا: "ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔" یعنی ہمیں اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ اس کی بارگاہ میں ہمارا حساب ہوگا۔ ہم تیری دھمکیوں سے نہیں ڈرتے، کیونکہ تیرا عذاب تو صرف اس دنیا تک محدود ہے، لیکن ہمارے رب کا عذاب آخرت میں بہت سخت ہے۔ ہم نے اپنے رب کو پہچان لیا ہے، اس لیے ہم تیرے غصے اور تیری سزاؤں کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہم تیری بجائے اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ وہی ہمارا حقیقی مالک ہے اور ہم اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کی طاقت کیا ہوتی ہے! ذرا تصور کریں، وہی ساحر جو کل تک فرعون کے دربار میں عزت و جاہ حاصل کرتے تھے، آج جب ایمان کی دولت ان کے ہاتھ لگی تو انہوں نے دنیا کی تمام آرائشوں اور فرعون کی دھمکیوں کو ٹھکرا دیا۔ انہوں نے جان لیا کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا اور اس کی بارگاہ میں واپسی ہے۔ یہی وہ ایمان ہے جو انسان کو موت کے خوف سے آزاد کر دیتا ہے اور اسے حق پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی زندگی میں اللہ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھیں، کیونکہ ہم سب کو ایک دن اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ جس نے اس حقیقت کو سمجھ لیا، وہ دنیا کی کسی طاقت سے نہیں ڈرتا۔ اللہ ہمیں بھی سچا ایمان اور ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 123-127 — اعراف
ترجمہ — اعراف 125
سورہ اعراف آیت 125 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ…سورہ آیت 125/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 123–127. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








