ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- يَتِيمًا: وہ بچہ جس کا باپ وفات پا چکا ہو۔
- فَآوَىٰ: پناہ دی، جگہ دی، سنبھال لیا۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! کیا اللہ نے آپ کو یتیم نہیں پایا تھا؟ آپ کے والد ماجد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ آپ کی ولادت سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، اور آپ کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے بچپن میں ہی انتقال فرما گئیں۔ اس دنیا میں آپ کا کوئی سہارا نہ تھا، مگر اللہ رب العزت نے اپنی خاص رحمت سے آپ کو پناہ دی اور آپ کی کفالت کا انتظام فرمایا۔ سب سے پہلے آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کو اپنی آغوشِ شفقت میں لیا، اور ان کی وفات کے بعد آپ کے چچا حضرت ابوطالب نے آپ کو اپنے گھر میں جگہ دی اور بھرپور سرپرستی فرمائی۔
یہ اللہ کی عظیم الشان رحمت تھی کہ اس نے آپ کو یتیمی کی حالت میں تنہا نہ چھوڑا، بلکہ آپ کو اپنی خاص حفاظت میں لے لیا اور ہر مرحلے پر آپ کے لیے سہارے فراہم کیے۔ اس میں ایک بڑا سبق ہے کہ جب انسان کسی مصیبت میں مبتلا ہو، تو اللہ پر بھروسہ رکھے، کیونکہ اللہ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
یہ آیت ہمیں اللہ کی محبت اور شفقت کا احساس دلاتی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ہر حالت میں خبرگیری فرماتا ہے۔ جب ہم کسی پریشانی میں ہوں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہماری مدد کرنے والا ہے، جیسے اس نے اپنے حبیب ﷺ کو یتیمی کی حالت میں پناہ دی اور انہیں عزت و رفعت عطا فرمائی۔ یہ ہمارے لیے بھی امید کا پیغام ہے کہ اللہ کی رحمت سے کوئی بھی مشکل آسان ہو سکتی ہے۔
📜 آیت 4-8 — ضحی
ترجمہ — ضحی 6
سورہ ضحی آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟…سورہ آیت 6/11 — ضحی الضحى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ضحی سنیں, ضحی ترجمہ, ضحی mp3, ضحی pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








