ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَسْمَعُونَکُمْ: کیا وہ تمہاری سنتے ہیں
- إِذْ تَدْعُونَ: جب تم انہیں پکارتے ہو
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس انداز میں جھنجھوڑا کہ ان کے دلوں میں سوچنے سمجھنے کی تحریک پیدا ہو۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ذرا غور تو کرو، کیا یہ بت جنہیں تم پکارتے ہو، تمہاری آواز سنتے ہیں؟ جب تم ان کے سامنے گڑگڑاتے ہو، دعائیں مانگتے ہو، فریاد کرتے ہو، کیا وہ تمہاری سنتے ہیں؟ کیا ان کے پاس کوئی کان ہیں جو تمہاری آواز کو سن سکیں؟ کیا ان کے پاس کوئی طاقت ہے جو تمہاری مدد کر سکے؟
یہ سوال دراصل ان کے شعور کو بیدار کرنے کے لیے تھا تاکہ وہ خود ہی سوچیں کہ جس معبود کو ہم پوجتے ہیں، وہ نہ تو ہماری سنتا ہے، نہ ہماری مدد کرتا ہے، نہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے، نہ نقصان سے بچا سکتا ہے۔ پھر ایسی ہستی کی عبادت کا کیا فائدہ؟
یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے ان کے جاہلانہ عقیدے کی بنیاد ہلا دی۔ کیونکہ عبادت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بندہ اپنے معبود سے اپنی حاجتیں مانگے، اس سے مدد طلب کرے، اور اس کی رحمت کا امیدوار ہو۔ لیکن جب معبود ہی سننے سے قاصر ہو، تو پھر اس کی عبادت محض ایک بے مقصد رسم ہے۔
یہاں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ عبادت صرف اسی کی ہونی چاہیے جو سننے والا، دیکھنے والا، اور ہر چیز پر قادر ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ ہے جو ہر دعا سنتا ہے، ہر پکار کو جانتا ہے، اور اپنے بندوں کی حاجتیں پوری کرنے پر قادر ہے۔ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر حاجت، ہر پریشانی، ہر مشکل میں صرف اللہ سے دعا کریں، کیونکہ وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔
یہ آیت ہمیں توحید کی اہمیت سکھاتی ہے اور شرک کی بے وقعتی واضح کرتی ہے۔ جب ہم اپنی دعاؤں میں صرف اللہ کو پکاریں گے، تو ہمارے دل کو سکون ملے گا اور ہمیں یقین ہوگا کہ ہماری دعا سنی جا رہی ہے، چاہے وہ کتنی ہی دیر سے قبول ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور انہیں بہترین طریقے سے قبول فرماتا ہے۔
📜 آیت 70-74 — شعراء
ترجمہ — شعراء 72
سورہ شعراء آیت 72 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ابراہیم نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو…سورہ آیت 72/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 70–74. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








